سال 2025 میں سونے کی شاندار کارکردگی کے بعد سال 2026 کے لیے اہم پیش گوئیاں سامنے آگئیں۔
تفصیلات کے مطابق سال 2025 سونے کے لیے یادگار اور غیر معمولی رہا کیونکہ یہ سب سے بہترین اور چمکدار” اثاثہ ثابت ہوا۔ عالمی سطح پر معاشی غیر یقینی صورتحال، حکومتوں پر بڑھتے ہوئے قرضے، اور مرکزی بینکوں کی جانب سے ڈالر پر انحصار کم کرنے کی کوششوں نے سونا سرمایہ کاروں کے لیے سب سے محفوظ اور منافع بخش اثاثہ بنا دیا۔
عالمی مارکیٹ میں سونے کی کارکردگی: عالمی مارکیٹ میں سال کے آغاز میں سونے کی قیمت $2,623.96 فی اونس تھی، جو اکتوبر تک $4,400 فی اونس تک پہنچ گئی اور نومبر کے وسط تک سونے نے سالانہ بنیاد پر 55 فیصد سے زائد منافع دیا، جو گزشتہ کئی دہائیوں میں سونے کی عالمی مارکیٹ کی بہترین کارکردگی میں شمار ہوتا ہے۔
پاکستان میں جنوری 2025 میں 24 قیراط سونے کی فی تولہ قیمت تقریباً 273,600 روپے تھی، جو دسمبر میں بڑھ کر 4 لاکھ 54 ہزار روپے فی تولہ تک پہنچ گئی۔
اس سال سونے کی طلب میں اضافہ بنیادی طور پر سرمایہ کاری کے متبادل مواقع، ڈالر کی کمزوری، اور عالمی مالیاتی غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے ہوا۔
سونے کی قیمت میں اضافے کی وجوہات: سونا مہنگا ہونے کی بنیادی وجوہات میں امریکی مرکزی بینک کی پالیسی میں تبدیلی، عالمی سیاسی کشیدگی، اور مرکزی بینکوں کی جانب سے سونے کی بڑھتی ہوئی خریداری شامل ہیں۔
امریکی مرکزی بینک کی پالیسی: سال 2025 میں امریکی فیڈرل ریزرو نے شرح سود میں کمی کے اشارے دیے، جس سے ڈالر کمزور ہوا اور سونے کی عالمی قیمت میں اضافہ ہوا۔
مزید پڑھیں: امریکی شہریت حاصل کرنے کا نادر موقع،ٹرمپ گولڈ کارڈ اسکیم شروع
عالمی سیاسی اور اقتصادی تناؤ: مشرق وسطیٰ، یورپ، اور ایشیا میں سیاسی کشیدگی اور تجارتی تنازعات نے سرمایہ کاروں کو محفوظ اثاثوں، جیسے سونے کی طرف راغب کیا۔
مرکزی بینکوں کی خریداری: کئی مرکزی بینکوں نے اپنے ذخائر میں سونے کی خریداری میں اضافہ کیا، جس سے قیمتوں پر دباؤ بڑھا۔
پاکستان میں سونے کی مارکیٹ: پاکستان کی مقامی مارکیٹ نے بھی عالمی رجحانات کی عکاسی کی۔ جنوری 2025 میں 24 قیراط سونے کی فی تولہ قیمت تقریباً 273,600 روپے تھی، جو نومبر میں بڑھ کر 437,000 روپے فی تولہ ہو گئی، یعنی تقریباً 57 فیصد اضافہ ہوا۔
سال 2026 کے لیے عالمی اور مقامی پیش گوئیاں: عالمی مالیاتی ادارے توقع کر رہے ہیں کہ 2026 میں سونے کی قیمت 4,500 سے 5,300 ڈالر فی اونس تک پہنچ سکتی ہے۔ پاکستان میں یہ عالمی اثرات کے باعث 550,000 روپے فی تولہ تک جا سکتی ہے۔
ممکنہ خطرات: سونے کی قیمت میں ممکنہ اضافے کے باوجود کچھ خطرات بھی موجود ہیں۔امریکی مرکزی بینک کی جانب سے شرح سود میں اضافہ یا کمزوری کے اشارے غلط ثابت ہونا۔ امریکی ڈالر کی مضبوطی، جس سے سونے کی قیمت میں کمی آ سکتی ہے، عالمی سطح پر سونے کی مانگ میں کمی، خصوصاً اگر عالمی سیاسی یا اقتصادی حالات بہتر ہوں۔
سونے کی عالمی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ، جو مختصر مدتی سرمایہ کاروں کو متاثر کر سکتا ہے۔: سرمایہ کاری کے مواقع اور حکمت عملی سرمایہ کاروں کے لیے قلیل مدتی قیمت میں کمی کو خریداری کا موقع سمجھنا فائدہ مند ہے۔
سونا نہ صرف مہنگائی کے اثرات سے تحفظ فراہم کرتا ہے بلکہ کرنسی کی قدر میں کمی سے بھی سرمایہ محفوظ رہتا ہے۔ طویل مدتی سرمایہ کاری کرنے والے افراد کے لیے یہ وقت مناسب ہے، کیونکہ عالمی اور مقامی مارکیٹ کے رجحانات مثبت نظر آ رہے ہیں۔
پیشگوئیوں کے حساب سے سال 2026 بھی سرمایہ کاروں کے لیے سنہری موقع ہے کیونکہ سونے میں سرمایہ کاری نہ صرف مالی تحفظ فراہم کرتی ہے۔