امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فلسطینی اتھارٹی کے پاسپورٹ ہولڈرز اور شام سمیت مزید سات ممالک کے شہریوں کے امریکا میں داخلے پر پابندی عائد کردی۔
ٹرمپ کی عائد کردہ پابندی کا سامنا کرنے والے دیگر ممالک میں برکینا فاسو، مالی، نائجر، سیرا لیون، جنوبی سوڈان اور لاؤس شامل ہیں۔ نئی پالیسی کا اطلاق یکم جنوری سے کیا جائےگا۔
ترجمان وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکا ایسے تمام غیر ملکیوں کو روکنا چاہتا ہے جو اسے غیر محفوظ اور غیر مستحکم بناسکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکا اس سے پہلے بھی 12 ممالک کے شہریوں کے امریکا میں داخلے پر پابندی لگا چکا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینز ویلا میں آنے اور جانے والے آئل ٹینکرز کی مکمل ناکہ بندی کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ وینزویلا کے گرد گھیراؤ مزید بڑھایا جائے گا۔
واضح رہے کہ امریکی حکومت نے مزید کئی ممالک کے شہریوں کے داخلے پر پابندی لگا دی ہے، وائٹ ہاؤس کا کہنا تھا کہ رکینافاسو، مالی، نائجر، جنوبی سوڈان اور شام کے شہریوں پر مکمل پابندی عائد کی گئی ہے، انگولا، انٹیگوا، گیبون، گیمبیا، تنزانیہ کے شہریوں پر جزوی پابندی عائد کی گئی ہے۔
وائٹ ہاؤس کا مزید کہنا تھا کہ ٹونگا، زیمبیا اورزمبابوے کے شہریوں کا بھی امریکا میں داخلہ بند کر دیا گیا ہے، برکینافاسو، مالی، نائجر، جنوبی سوڈان اور شام کے شہری بھی شامل ہیں، فلسطینی اتھارٹی کی دستاویزات کے حامل افراد بھی امریکا نہیں آسکیں گے۔