افغان حکومت پاکستان کے دشمنوں کے ساتھ ہاتھ ملانے کے لیے کھل کر سامنے آ گئی ہے، افغان وزیر خارجہ امیر متقی کے بعد افغانستان کے وزیرِ صحت نور جلال جلالی بھی سرکاری دورے پر نئی دہلی پہنچے ہیں، بظاہر اس دورے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان صحت کے شعبے میں تعاون کو فروغ دینا ہے۔ افغانستان کی وزارتِ صحت نے اس دورے کی تصدیق کی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ گزشتہ 3 ماہ کے دوران بھارت آنے والا تیسرا اعلیٰ سطح کا افغان وفد ہے۔ اس سے قبل افغان وزیرِ خارجہ امیر خان متقی اور وزیرِ صنعت نورالدین عزیزی بھی بھارت کا دورہ کر چکے ہیں، جو نئی دہلی اور کابل کے درمیان بڑھتے ہوئے روابط کی عکاسی کرتا ہے۔
افغان وزارتِ صحت کے بیان کے مطابق، وزیرِ صحت کا یہ کثیر روزہ دورہ دوطرفہ صحت تعاون کو مضبوط بنانے، مہارتوں کے تبادلے کو فروغ دینے اور مشترکہ منصوبوں میں ہم آہنگی پیدا کرنے پر مرکوز ہے۔ اپنے قیام کے دوران نور جلال جلالی بھارتی حکام، بالخصوص صحت کے شعبے سے وابستہ عہدیداروں سے ملاقاتیں کریں گے اور مختلف پروگراموں میں شرکت کریں گے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق مذاکرات میں افغان صحت کارکنوں کی صلاحیت سازی، معیاری ادویات اور طبی آلات کی درآمد اور دیگر متعلقہ امور پر توجہ دی جائے گی۔
بھارت کی وزارتِ خارجہ نے افغان وفد کا خیرمقدم کیا۔ بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا کہ یہ دورہ افغانستان کے صحت کے نظام کے لیے بھارت کی مسلسل حمایت کی عکاسی کرتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان مثبت اور نتیجہ خیز بات چیت کی توقع ہے۔
یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب افغانستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔ طالبان کی قیادت میں افغان حکومت نے حال ہی میں پاکستان سے دواسازی کی مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کر دی ہے۔
اسلام آباد نے کابل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سرحد پار دہشتگردی کے خلاف اقدامات کرے اور تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکے، تاہم افغان طالبان نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔
اکتوبر میں سرحدی جھڑپوں کے بعد دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات ہوئے، جن میں ترکیہ میں بات چیت ہوئی اور قطر و ترکیہ نے ثالثی کا کردار ادا کیا۔ اس کے باوجود مذاکرات کسی ٹھوس معاہدے پر منتج نہ ہو سکے اور 7 نومبر کو تیسرے دور کے بعد انہیں’غیر معینہ مرحلے ‘ میں داخل قرار دیا گیا۔
مذاکرات کی ناکامی کے بعد افغان طالبان نے پاکستان کے ساتھ تجارتی تعلقات معطل کر دیے، جبکہ پاکستان پہلے ہی اکتوبر کی جھڑپوں کے بعد تجارت کے لیے سرحد بند کر چکا تھا۔