وزیراعظم شہباز شریف نے خیبر پختونخوا میں وزیراعظم لیپ ٹاپ اسکیم 2025 کا افتتاح کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام صرف طلبا میں لیپ ٹاپ تقسیم کرنے تک محدود نہیں بلکہ ایک ایسا نظام تشکیل دینے کی کوشش ہے جس کے ذریعے نوجوان اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر امتیازی کامیابی حاصل کر سکیں۔
اس اسکیم کی افتتاحی تقریب یونیورسٹی آف ہری پور میں منعقد ہوئی، جس میں سرکاری حکام، نوجوان رہنما اور مستفید ہونے والے طلبا کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ وزیراعظم نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس اسکیم سے اب تک ملک بھر میں دس لاکھ سے زیادہ طلبا مستفید ہو چکے ہیں اور یہ نوجوانوں کو میرٹ کی بنیاد پر بااختیار بنانے کے ان کے دیرینہ وژن کی عکاس ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’اس قوم کا مستقبل ہمارے طلبا کے ہاتھوں میں ہے، جو نہ صرف ذہین ہیں بلکہ عالمی سطح پر مقابلہ کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں‘۔ وزیراعظم نے 1997 سے نوجوانوں کی ترقی کے لیے کی جانے والی اپنی کوششوں کا بھی حوالہ دیا۔
میں اپنی ذات کے لیے گارڈ آف آنر لینے کا قائل ہی نہیں۔ یہ پولیس گارڈ آف آنر صرف آپ کو پیش کیا گیا ، آپ کی محنت اور آپ کی قابلیت کو پیش کیا گیا۔ مجھے اللہ تعالی نے جس منصب پر بٹھایا ہے میں اس ذمہ داری کو پوری طرح سے ادا کر دوں تو
وزیراعظم نے تمام وفاقی اکائیوں کی یکساں ترقی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ قومی ترقی اسی وقت ممکن ہے جب ہر خطے کو آگے بڑھنے کے یکساں مواقع فراہم کیے جائیں۔ انہوں نے کہاکہ ’ پاکستان کی ترقی کسی ایک صوبے پر منحصر نہیں بلکہ مجموعی اور ہمہ جہت ترقی سے جڑی ہوئی ہے‘۔
وزیراعظم شہباز شریف نے خیبر پختونخوا خصوصاً ہزارہ ڈویژن کے عوام کو دہشتگردی کے خلاف جدوجہد اور قربانیوں پر خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے پولیس، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور مسلح افواج کی قربانیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی خدمات کو ‘سنہری حروف میں یاد رکھا جائے گا‘۔
انہوں نے والدین اور اساتذہ کی کاوشوں کو بھی سراہا اور کہا کہ انہی کی محنت سے پاکستان کا مستقبل سنور رہا ہے۔
معاشی صورتحال پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کو دیوالیہ ہونے کے خطرے سے نکال لیا گیا ہے اور اب معاشی ترقی کے لیے جدید مہارتوں پر توجہ دینا ہو گی۔ انہوں نے آئی ٹی، زراعت اور معدنیات جیسے شعبوں میں مہارت کی ضرورت پر زور دیا اور اعلان کیا کہ تمام صوبوں سے طلبا کے وفود کو چین بھیجا جائے گا تاکہ وہ مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کی تربیت حاصل کر سکیں۔
مقامی مطالبات کے جواب میں وزیراعظم نے ہری پور میں دانش اسکول کے قیام کا اعلان کیا، جس میں لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے الگ الگ کیمپس ہوں گے۔ انہوں نے یونیورسٹی آف ہری پور میں خواتین کیمپس کے قیام کا بھی وعدہ کیا اور کہا کہ یہ منصوبہ مقامی ثقافت اور طالبات کی امنگوں کے مطابق مکمل کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ انہوں نے تعلیمی اداروں کے درمیان بہتر رابطے کے لیے ہری پور پل کی تعمیر کا بھی اعلان کیا۔
خطاب کے اختتام پر وزیراعظم نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ علامہ اقبال کی تعلیمات سے رہنمائی حاصل کریں اور اتحاد و عزم کے ساتھ قومی چیلنجز کا مقابلہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ ’پاکستان کا مستقبل نوجوانوں کے ہاتھوں میں ہے اور وہی اس ملک کو نئی بلندیوں تک لے کر جائیں گے‘۔