پاکستان فائیو جی انٹرنیٹ سروسز کے آغاز کے مزید قریب پہنچ گیا ہے، کیونکہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے عندیہ دیا ہے کہ طویل عرصے سے زیرِ التوا5G اسپیکٹرم کی نیلامی رمضان سے قبل ہو سکتی ہے۔
پی ٹی اے نے رمضان سے پہلے 5G اسپیکٹرم کی نیلامی کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے۔ پی ٹی اے کے چیئرمین کے مطابق پاکستان میں5G سروسز کا آغاز اب زیادہ دور نہیں رہا۔ انہوں نے سما ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں تصدیق کی کہ5G نیلامی کی تمام تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔
حکومتی منظوری طلب کی جائے گی
پی ٹی اے چیئرمین نے کہا کہ اتھارٹی باضابطہ طور پر حکومت سے رمضان سے قبل 5Gاسپیکٹرم کی نیلامی کی منظوری طلب کرے گی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ منظوری ملنے کے بعد عمل تیزی سے آگے بڑھے گا۔ یہ اقدام پاکستان کے ڈیجیٹل رابطوں اور ٹیلی کام انفراسٹرکچر کو تیز رفتار بنانے میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
انفارمیشن میمورنڈم کا اجرا
پی ٹی اے چیئرمین کے مطابق انفارمیشن میمورنڈم آئندہ 10 سے 15 دنوں میں جاری کیا جائے گا، جس میں ٹیلی کام آپریٹرز کے لیے نیلامی کی شرائط و ضوابط کی تفصیلات شامل ہوں گی۔ انفارمیشن میمورنڈم کے اجرا کے بعد ٹیلی کام کمپنیوں کو بولیاں جمع کرانے کے لیے 45 دن دیے جائیں گے۔
پی ٹی اے چیئرمین نے بتایا کہ اگر انفارمیشن میمورنڈم یکم جنوری تک جاری کر دیا گیا تو 5G اسپیکٹرم کی نیلامی 15 فروری کو منعقد کی جا سکتی ہے، جس سے یہ عمل رمضان سے کافی پہلے مکمل ہو جائے گا۔
پی ٹی اے چیئرمین نے اپنے بیان کو دہراتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں 5G روسز کا آغاز زیادہ دور نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اتھارٹی تمام قانونی اور حکومتی مراحل کی تکمیل کے بعد آگے بڑھنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
5G سروسز کے آغاز سے ڈیٹا اسپیڈ میں نمایاں بہتری، جدت میں اضافہ اور ملک بھر میں نئی ٹیکنالوجیز کے فروغ کی توقع کی جا رہی ہے، جو پاکستان کے ڈیجیٹل سفر میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہو گا۔