اسلام آباد کی خصوصی عدالت نے توشہ خانہ ٹو کیس میں سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو مجموعی طور پر 17، 17 سال قید کی سزا سنا دی ہے جبکہ ایک کروڑ روپے جرمانہ بھی ادا کرنا ہوگا۔
اسپیشل جج سینٹرل ارجمند شاہ نے اڈیالہ جیل میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی موجودگی میں توشہ خانہ ٹو کیس کا فیصلہ سنایا۔
عمران خان اور بشریٰ بی بی کو پی پی سی دفعہ 409 کے تحت 7، 7 سال قید کی بھی سزا ، مجموعی طور پر بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کو 17 سال سزا سنائی ، بشری بی بی اور بانی پی ٹی آئی کو ایک کروڑ روپے جرمانے کی بھی سزا سنائی ۔
عدالت کے فیصلے میں بتایا گیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی زائد عمر اور بشریٰ بی بی کے خاتون ہونے کی وجہ سے کم سزا دی گئی، جرمانہ ادا نہ کرنیکی صورت میں مزید 6 ماہ قید کاٹنا ہوگی ، مجرموں کی عرصہ حوالات کو بھی سزا میں شامل کر لیا گیا ہے۔
CamScanner 20-12-2025 10.32 by Iqbal Anjum
13جولائی 2024 کو نیب نے توشہ خانہ ٹو کیس میں بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی اڈیالہ جیل میں گرفتاری ڈالی تھی۔
بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی 37 دن تک اڈیالہ جیل میں نیب کی تحویل میں رہے اور تفتیش مکمل ہونے کے بعد نیب نے 20 اگست کو احتساب عدالت میں توشہ خانہ ٹو کیس کا ریفرنس دائر کیا تھا۔
اسپیشل جج شاہ رخ ارجمند نے توشہ خانہ 2 (TK2) کیس میں دفعہ 409 PPC کے تحت دونوں افراد کو الگ الگ 10، 10 سال قیدِ کی سزا سنائی ہے، جبکہ 16,425,650 روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔
اسی کیس میں سیکشن 5(2) PCA 1947 کے تحت ایم جی اور بشریٰ بی بی کو 7، 7 سال قیدِ کی سزا سنائی گئی ہے۔
واضح رہے کہ توشہ خانہ ٹو کیس کی آخری سماعت 16 اکتوبر کو اڈیالہ جیل میں ہوئی تھی، جس کے بعد تین بار سماعت ملتوی ہوئی۔
ایف آئی اے ریکارڈ کے مطابق عمران خان اور بشریٰ عمران 7 سے 10 مئی 2021 کے دوران سرکاری دورے پر مملکتِ سعودی عرب گئے، جہاں مبینہ طور پر بشریٰ عمران کو بلغاری جیولری سیٹ تحفے میں دیا گیا۔ باہمی قانونی معاونت اور بلغاری ایس پی اے اٹلی سے موصولہ جواب کے مطابق اس سیٹ کی مالیت تقریباً 71.5 ملین روپے بتائی گئی ہے۔
تحقیقات کے مطابق یہ جیولری سیٹ توشہ خانہ میں جمع نہیں کرایا گیا، حالانکہ 18 دسمبر 2018 کے توشہ خانہ طریقہ کار کے تحت ایسا کرنا قانونی طور پر لازم تھا۔ الزام ہے کہ جیولری کو جسمانی طور پر جمع کرائے بغیر توشہ خانہ رجسٹر میں اندراج کیا گیا۔
ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ جب جیولری کی قیمت کے تعین کا عمل شروع ہوا تو یہ سیٹ ایک شخص کے ذریعے نجی ویلیوایٹر سہیب عباسی کے پاس لے جایا گیا، جہاں مبینہ طور پر ملزمان کی ہدایات پر انتہائی کم قیمت لگوائی گئی۔ نجی ویلیوایٹر نے اس کی قیمت 5.859 ملین روپے مقرر کی، جسے کسٹمز حکام نے بغیر جسمانی معائنے کے میکانکی انداز میں منظور کر لیا۔
تحقیقاتی ادارے کے مطابق یہ جیولری وزیرِ اعظم اور خاتونِ اوّل کی حیثیت سے عمران خان اور بشریٰ عمران کے پاس امانت کے طور پر موجود تھی، جسے جان بوجھ کر جمع نہ کرا کر درست ویلیوایشن کا موقع ختم کیا گیا۔ ایف آئی اے کا دعویٰ ہے کہ کم قیمت لگوا کر اور توشہ خانہ میں جمع نہ کرا کر قومی خزانے کو 32.851 ملین روپے کا نقصان پہنچایا گیا۔
یاد رہے کہ توشہ خانہ ٹو کیس کی 80 سے زائد سماعتیں اڈیالہ جیل میں ہوئیں، سرکار کی جانب سےوفاقی پراسیکیوٹر ذوالفقار عباس نقوی، بیرسٹر عمیر مجید ملک، بلال بٹ اور شاہویز گیلانی نے کیس کی پیروی کی جبکہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کا کیس ان کے وکیل ارشد تبریز،قوثین فیصل مفتی اور بیرسٹر سلمان صفدر نے لڑا۔
راولپنڈی میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
دوسری جانب راولپنڈی میں امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے دفعہ 144 میں ایک بار پھر توسیع کردی گئی ہے، ڈپٹی کمشنر راولپنڈی حسن وقار چیمہ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق دفعہ 144 کا نفاذ 24 دسمبر تک برقرار رہے گا۔