وزیراعظم کے مشیر اور سینیٹر رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ جو شخص مسلسل دوسروں کو چور کہتا رہا آج وہی خود چور ثابت ہو چکا ہے،پنجاب کے ضلع چنیوٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کو بطور تحفہ ملنے والی قیمتی گھڑیاں دراصل بیرونِ ممالک سے درآمد شدہ تھیں اور بعد ازاں انہی گھڑیوں کو دوسرے ممالک میں فروخت کیا گیا، جو قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔
اُن کے مطابق ریاست کو ملنے والے تحائف کسی فرد کی ذاتی ملکیت نہیں ہوتے بلکہ وہ قومی اثاثہ شمار ہوتے ہیں،رانا ثنا اللہ نے کہا کہ وہ چنیوٹ میں پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سید حسن مرتضیٰ کے والد کی وفات پر تعزیت کے لیے آئے ہیں۔
اس موقع پر انہوں نے بانی پی ٹی آئی سے متعلق سوالات کے جواب میں واضح کیا کہ حکومت کی جانب سے انہیں کسی دوسری جیل منتقل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں، تاہم اگر پی ٹی آئی قیادت محض ملاقاتوں تک محدود رہے تو حکومت کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔
مشیر وزیراعظم نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے برسوں تک سیاسی مخالفین کو چور اور ڈاکو کہہ کر پکارا مگر اب خود اُن کے خلاف شواہد سامنے آ چکے ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ سال 2018 میں آر ٹی ایس سسٹم بند کر کے ایک نیا سیاسی پراجیکٹ لانچ کیا گیا جس کے نتائج آج سب کے سامنے ہیں انہوں نے دعویٰ کیا کہ 2017 تک ڈالر، پٹرول اور دیگر بنیادی اشیاء کی قیمتیں نسبتاً مستحکم تھیں، مگر پی ٹی آئی حکومت کی ناقص پالیسیوں کے باعث ملک کو آئی ایم ایف پروگرام کی طرف جانا پڑا۔
رانا ثنا اللہ کے مطابق آئی ایم ایف معاہدے کے تحت حکومت سبسڈی دینے میں محدود ہے، تاہم جیسے ہی پروگرام مکمل ہوگا وزیراعظم عوام کو ریلیف فراہم کریں گے انہوں نے 190 ملین پاؤنڈ کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایسے مقدمات بدعنوانی کی واضح مثال ہیں ۔