ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ ترکی اور پاکستان کے تعلقات نہ صرف تاریخی اعتبار سے مضبوط ہیں بلکہ مستقبل میں بھی یہ دوستی مزید فروغ پائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ دونوں ممالک کی مشترکہ تاریخ صدیوں پر محیط ہے اور مختلف چیلنجز اور آزمائشوں کے باوجود تعلقات قائم و مضبوط رہے ہیں۔ اردوان کے مطابق پاک ترک دوستی آئندہ برسوں میں بھی مستحکم اور ترقی یافتہ ہوگی۔
ترک صدر نے پاکستان کے لیے بحری صلاحیت بڑھانے کے حوالے سے اہم اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نیوی کو پی این ایس خیبر فراہم کیا جا رہا ہے، جو اپنے تمام آزمائشی مراحل کامیابی سے مکمل کر چکا ہے۔ مزید بتایا کہ پی این ایس بدر 2026 کے اختتام تک پاکستان کو فراہم کیا جائے گا جبکہ پی این ایس طارق آئندہ سال کی پہلی سہ ماہی میں پاکستان کے حوالے کیا جائے گا یہ اقدامات دونوں ممالک کے دفاعی تعلقات کو مستحکم کرنے کے لیے اہم تصور کیے جاتے ہیں۔
اردوان نے عالمی اور علاقائی امن کے حوالے سے بھی بات کی اور کہا کہ ترکی جنگی طیارے بنانے والے دنیا کے دس ممالک میں شامل ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ہر ملک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام ترکی کی خارجہ پالیسی کا بنیادی جزو ہے۔ ترک صدر نے واضح کیا کہ ترکی کسی بھی ملک کے ساتھ تصادم یا کشیدگی نہیں چاہتا اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ امن و استحکام کو فروغ دینے کا خواہاں ہے۔
اردوان نے کہا کہ پاک ترک تعلقات دفاع، تجارت، ثقافت اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں مزید مضبوط ہوں گے، اور یہ تعلقات نہ صرف سیاسی بلکہ عوامی سطح پر بھی دوستانہ رشتے کو فروغ دیں گے۔ ان اقدامات سے دونوں ممالک کے درمیان دیرپا تعاون اور باہمی اعتماد کو مزید مضبوط بنانے کی توقع ہے۔