سولر صارفین کے لیے اہم خبر، نیٹ میٹرنگ پالیسی تبدیل

سولر صارفین کے لیے اہم خبر، نیٹ میٹرنگ پالیسی تبدیل

پاکستان میں سولر صارفین کے لیے ایک اہم اور بڑی پیش رفت سامنے آ گئی ہے، جہاں نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی نیپرا نے نیٹ میٹرنگ پالیسی میں بنیادی تبدیلی کر دی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق نیپرا ذرائع کا کہنا ہے کہ اسٹیک ہولڈرز سے طویل مشاورت کے بعد وزارت توانائی نے نئی پالیسی کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت سولر صارفین کے لیے نیٹ میٹرنگ کی جگہ نیٹ بلنگ کا نیا نظام نافذ کیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:سولر صارفین کے لئے بری خبر: نیٹ میٹرنگ کنکشنز پر خودساختہ پابندی عائد

رپورٹکے مطابق نئی پالیسی کے تحت سولر صارفین کے ساتھ کیے جانے والے معاہدے کی مدت 5 سال مقرر کر دی گئی ہے، جبکہ اس سے قبل یہ مدت زیادہ طویل سمجھی جاتی تھی۔ نیٹ بلنگ نظام کے تحت صارفین کو بجلی کے تبادلے کی بنیاد پر ادائیگی کی جائے گی اور سولر سے پیدا ہونے والی بجلی کی فی یونٹ قیمت تقریباً 12 روپے رکھی گئی ہے، جو موجودہ نیٹ میٹرنگ ریٹس سے کم بتائی جا رہی ہے۔

رپورٹس میں مزید بتایا گیا ہے کہ آئندہ 25 کلو واٹ سے کم لوڈ رکھنے والے صارفین کے لیے بھی نیپرا سے باقاعدہ لائسنس حاصل کرنا لازمی ہوگا۔ اس سے قبل گھریلو، کمرشل اور صنعتی صارفین کو 25 کلو واٹ تک سولر سسٹم لگانے پر لائسنس سے استثنیٰ حاصل تھا، تاہم نئی پالیسی کے تحت یہ سہولت ختم کر دی گئی ہے۔ سولر ٹیرف کے تعین کی ذمہ داری مکمل طور پر نیپرا ریگولیٹرز کے پاس ہوگی۔

میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ وزارت توانائی، ڈسکوز اور نیپرا کے درمیان کئی ماہ تک جاری رہنے والی مشاورت کے بعد اس پالیسی کو حتمی شکل دی گئی۔ وزارت توانائی نے وفاقی حکومت کو آگاہ کیا تھا کہ موجودہ نیٹ میٹرنگ نظام کے ساتھ آگے چلنا ممکن نہیں رہا، کیونکہ اس سے پاور سیکٹر پر مالی دباؤ بڑھ رہا تھا۔

مزید پڑھیں:نیٹ میٹرنگ: سولر صارفین کے لیے اہم خبر سامنے آگئی

واضح رہے کہ نئی پالیسی سے سولر صارفین اور پاور سیکٹر دونوں پر اثرات مرتب ہوں گے، جبکہ صارفین میں اس فیصلے پر ملا جلا ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ایک جانب حکومت اس اقدام کو نظام کی بہتری قرار دے رہی ہے، تو دوسری جانب سولر صارفین خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ نئی نیٹ بلنگ پالیسی سے ان کے معاشی فوائد میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *