2025 بھارت کی خارجہ پالیسی کی ناکامیوں اورہزیمت کا سال، عالمی سطح پر سفارتی سبکی کا سامنا کرنا پڑا، دی ہندو

2025 بھارت کی خارجہ پالیسی کی ناکامیوں اورہزیمت کا سال، عالمی سطح پر سفارتی سبکی کا سامنا کرنا پڑا، دی ہندو

بھارتی اخبار ‘دی ہندو’ نے 2025 کو بھارت کی خارجہ پالیسی کے لیے ناکامیوں، وعدوں کے بکھرنے اور عالمی سطح پر سفارتی سبکی کا سال قرار دیتے ہوئے مودی حکومت کی سفارتی حکمت عملی پر شدید تنقید کی ہے۔

اخبار کے مطابق نریندر مودی سے وابستہ بلند توقعات حقیقت کا روپ نہ دھار سکیں اور علامتی سفارت کاری، ذاتی تعلقات اور بیانیہ سازی حقیقی معاشی، عسکری اور سفارتی طاقت کا نعم البدل ثابت نہ ہو سکی۔

یہ بھی پڑھیں:آپریشن سندور بری طرح ناکام ہوا، عالمی سطح پر بھارت کی سبکی ہوئی، جیت پاکستان کی ہوئی، بھارتی یوٹیوبرز کا اعتراف

دی ہندو کے تجزیے میں کہا گیا ہے کہ بھارت نے نہ صرف اپنے عوام بلکہ عالمی شراکت داروں سے بھی ایسے وعدے کیے جن پر عملدرآمد کے لیے اس کے پاس مطلوبہ اثرورسوخ اور قوت موجود نہیں تھی۔

اخبار کے مطابق 2025 میں عالمی سطح پر بھارت کو جن سفارتی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا، انہوں نے اس کی خارجہ پالیسی کی کمزوریوں کو کھل کر بے نقاب کر دیا۔

امریکا کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے دی ہندو نے اعتراف کیا ہے کہ 2025 بھارت کے لیے اس صدی کا مشکل ترین سال ثابت ہوا۔ 25 فیصد ٹیرف، روسی تیل پر اضافی پابندیاں اور H-1B ویزا پر قدغنوں نے یہ ثابت کر دیا کہ واشنگٹن کے ساتھ بھارت کی شراکت داری مشروط اور محض مفادات تک محدود ہے۔

اخبار کے مطابق 2017 کے مقابلے میں 2025 کی امریکی نیشنل سیکیورٹی اسٹریٹجی میں بھارت کے کردار کو محدود کر دیا گیا ہے۔

چین اور روس کے حوالے سے دی ہندو نے لکھا کہ تمام تر اعلیٰ سطح کی ملاقاتوں کے باوجود لائن آف ایکچول کنٹرول پر کوئی ٹھوس سیکیورٹی پیش رفت ممکن نہ ہو سکی، سرمایہ کاری کی رکاوٹیں برقرار رہیں اور بھارت محض علامتی موجودگی تک محدود رہا۔ توانائی کے شعبے میں بھی امریکی دباؤ کے باعث بھارت کو روسی تیل کے معاملے پر اپنے موقف سے پیچھے ہٹنا پڑا۔

اخبار نے پہلگام فالس فلیگ آپریشن کو سنگین سیکیورٹی ناکامی قرار دیتے ہوئے یہ بھی تسلیم کیا کہ اس واقعے کے بعد بھارتی عسکری کارروائیوں کو عالمی سطح پر سفارتی حمایت حاصل نہ ہو سکی۔ دی ہندو کے مطابق بھارتی کارروائی کے بعد طیاروں کے نقصانات پر خاموشی نے بھی بھارت کی ساکھ کو نقصان پہنچایا۔

مزید پڑھیں:2025 بھارت کی خارجہ پالیسی کی ناکامیوں اورہزیمت کا سال، عالمی سطح پر سفارتی سبکی کا سامنا کرنا پڑا، دی ہندو

دی ہندو نے مزید لکھا کہ سعودی عرب اور پاکستان کے مابین باہمی دفاعی معاہدے کا اعلان بھارت کے لیے ایک اضافی سفارتی دھچکا ثابت ہوا۔ اخبار کے مطابق اب خود بھارتی تجزیہ کار بھی پاکستان کی قیادت کو ’سخت گیر اور منظم صلاحیت رکھنے والی‘ تسلیم کرنے لگے ہیں، جو اس بھارتی بیانیے کی نفی ہے کہ پاکستان کمزور یا عالمی سطح پر تنہا ہے۔

اخبار نے یہ بھی اعتراف کیا کہ بھارت اور بنگلہ دیش کے تعلقات اپنی تاریخ کی سب سے کشیدہ سطح پر پہنچ چکے ہیں۔ دی ہندو نے خبردار کیا کہ بھارت ’وشو گرو‘ کے دعوے سے نکل کر بتدریج ’وشو وکٹم‘ کی طرف بڑھ رہا ہے، جبکہ دوسروں کو موردِ الزام ٹھہرانا اصلاحات اور حقیقت پسندانہ پالیسی سازی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن چکا ہے۔

ماہرین کے مطابق دی ہندو کا یہ تجزیہ بھارت کی کمزور سفارت کاری کو عیاں کرتا ہے اور اس بات کی تصدیق ہے کہ بھارتی خارجہ پالیسی زیادہ تر آپٹکس اور دکھاوے پر مبنی رہی، عملی نتائج حاصل کرنے میں ناکام ثابت ہوئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اعتراف پاکستان کے اس مؤقف کو تقویت دیتا ہے کہ بھارت کا ڈیٹرنس بیانیہ عالمی سطح پر قائل کرنے میں ناکام رہا ہے، جبکہ خطے میں توازنِ طاقت کی نئی حقیقتیں اب زیادہ واضح ہو چکی ہیں۔

ماہرین نے یہ بھی نشاندہی کی ہے کہ بنگلہ دیش میں اقلیتوں پر مظالم پر تشویش ظاہر کرنے والے بھارت کو اپنے ملک میں اقلیتوں پر ہونے والے حملوں کی مذمت اور روک تھام کے لیے سنجیدہ اقدامات کرنا ہوں گے، کیونکہ دوہرا معیار اس کی سفارتی ساکھ کو مزید نقصان پہنچا رہا ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *