پاکستان کے معروف اینکر اور پروگرام میزبان اقرار الحسن نے عملی سیاست میں قدم رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے ایک نئی سیاسی جماعت بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔
انہوں نے بتایا ہے کہ وہ 15 جنوری کو اپنی مجوزہ تحریک کے نام کا باقاعدہ اعلان کریں گے، جبکہ اسی موقع پر پارٹی کی رجسٹریشن کے طریقہ کار سے متعلق تفصیلات بھی سامنے لائی جائیں گی۔ اقرار الحسن کے اس اعلان کو ملکی سیاسی منظرنامے میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
اقرار الحسن نے نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے اپنے پیغام میں پنجاب کی سیاسی اور ترقیاتی صورتحال پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے صوبے میں متعدد ترقیاتی منصوبے مکمل کیے، جن کے اثرات آج بھی نظر آتے ہیں۔ ان کے مطابق شہباز شریف کے دور میں پنجاب میں مختلف شعبوں میں ترقیاتی کام کیے گئے جو صوبے کی مجموعی کارکردگی میں نمایاں رہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ محسن نقوی نے بطور نگراں وزیراعلیٰ پنجاب بھی ترقیاتی اقدامات کیے اور ان کے دور میں کئی انڈر پاسز تعمیر کروائے گئے۔ اقرار الحسن کا کہنا تھا کہ پنجاب کی خوش قسمتی رہی ہے کہ وہاں آنے والے حکمرانوں میں سے بیشتر نے کام کیا، جن میں مریم نواز بھی شامل ہیں۔ تاہم انہوں نے واضح طور پر کہا کہ عثمان بزدار کے سوا دیگر حکمرانوں نے کسی نہ کسی سطح پر پنجاب کے لیے کام کیا۔
اپنے خطاب میں اقرار الحسن نے سیاسی جماعتوں کے کردار پر بات کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی جماعتیں دکان نہیں ہوتیں کہ ایک شخص کے انتقال کے بعد انہیں کسی اور کے حوالے کر دیا جائے، بلکہ سیاسی جماعتیں مضبوط ادارے ہوتی ہیں جو اصولوں اور نظام کے تحت چلتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مضبوط سیاسی جماعتیں ہی ملک کو درپیش مسائل کا پائیدار حل پیش کر سکتی ہیں۔
اقرار الحسن نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ان کی نئی سیاسی جماعت کا مقصد محض ذاتی نظریات یا خیالات پیش کرنا نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق وہ پاکستان میں ایک نئی سیاسی جماعت کے قیام کے ذریعے عوامی مسائل کے عملی حل پیش کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیاست میں ان کا داخلہ کسی فرد واحد کے گرد گھومنے کے بجائے ایک منظم اور ادارہ جاتی سوچ کے تحت ہوگا۔
آخر میں اقرار الحسن نے بتایا کہ 15 جنوری کو وہ اپنی تحریک کے نام کے ساتھ ساتھ پارٹی کی رجسٹریشن کے طریقہ کار کا بھی باضابطہ اعلان کریں گے، جس کے بعد ان کی سیاسی سرگرمیوں کا عملی آغاز ہوگا۔