سال2026 پاکستان کے لیے کیسا رہے گا؟اہم پیشگوئیاں

سال2026 پاکستان کے لیے کیسا رہے گا؟اہم پیشگوئیاں

سال 2025 کے اختتام کے ساتھ ہی دنیا سال 2026 میں داخل ہو چکی ہےاور اس موقع پر عالمی و مقامی سطح پر مستقبل کے حوالے سے قیاس آرائیاں ایک بار پھر موضوعِ بحث بن گئی ہیں ،ماہرین علم نجوم اور تجزیہ کاروں کے مطابق 2026 پاکستان سمیت دنیا کے کئی اہم خطوں کے لیے غیر معمولی نوعیت کا سال ثابت ہو سکتا ہے، جس میں چیلنجز کے ساتھ ساتھ نئے مواقع بھی سامنے آئیں گے۔

دنیا کے ماہرنجومیوں کا ماننا ہے کہ 2026 پاکستان کے لیے سیاسی تبدیلیوں کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے جہاں نئی قیادت، نئی سیاسی سوچ اور مختلف اتحاد ابھر سکتے ہیں،ماہر ین علم نجوم کے مطابق اگرچہ آنے والے مہینوں میں عالمی سطح پر سیاسی کشیدگی اور بے یقینی میں اضافہ متوقع ہےتاہم پاکستان کے حالات مجموعی طور پر نسبتاً بہتر رہنے کے امکانات ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ خطے میں بھارت کو اندرونی سیاسی دباؤ، معاشی مسائل اور سماجی بے چینی کا سامنا رہے گا، جس کے باعث وہ کسی بڑے فوجی یا علاقائی تنازع میں الجھنے سے گریز کرے گا،اسی تناظر میں پاکستان کے لیے براہِ راست بڑے خطرات محدود رہنے کی پیش گوئی کی جا رہی ہے،سامعہ خان کے مطابق فروری 2026 کے بعد دنیا ایک حساس اور نازک دور میں داخل ہو سکتی ہے جہاں غلط فیصلے اور اچانک واقعات عالمی بے چینی کو جنم دے سکتے ہیں۔

تاہم پاکستان اور اس کے قریبی خطے میں صورتحال مکمل طور پر خراب ہونے کے بجائے محتاط توازن میں رہنے کا امکان ہے معاشی میدان میں 2026 کو پاکستان کے لیے ایک مثبت سال قرار دیا جا رہا ہےجہاں غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ، صنعتی سرگرمیوں میں وسعت اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے جو مجموعی معیشت کو سہارا دے سکتے ہیں۔

یہ خبر بھی پڑھیں :2026 دنیا کیلئے کتنا ہولناک ؟ بابا وانگا کی بڑی پیشگوئیاں سامنے آگئیں

سیاسی منظرنامے پر بات کرتے ہوئے ماہرین کا کہنا ہے کہ سابق وزیرِ اعظم عمران خان کے مستقبل پر بدستور غیر یقینی کے بادل منڈلا رہے ہیں اور 2026 کے دوران ان کی رہائی کے امکانات کم دکھائی دیتے ہیں۔

اس صورتحال کے باعث ملکی سیاست میں نئی صف بندیاں اور قیادت کے نئے چہرے ابھرنے کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے،معروف نجومی حیدر علی جعفری کے مطابق جنوری اور فروری 2026عالمی سیاست کے لیے خاصے نازک مہینے ہو سکتے ہیں، جہاں غلط فیصلے بین الاقوامی کشیدگی میں اضافے کا سبب بن سکتے ہیں،ان کے مطابق پاکستان کے سرحدی علاقے، خصوصاً افغانستان اور بھارت سے ملحقہ خطے، تناؤ کا شکار رہ سکتے ہیںجبکہ یوکرین جنگ اور جنوبی بحیرہ چین کی صورتحال بھی عالمی بے چینی کو برقرار رکھے گی،

حیدر علی جعفری کے مطابق اگلے 9 سے 10 سال دنیا بھر میں نئے سیاسی اتحاد، نئی قیادت اور بڑے معاشی منصوبوں کا دور ہوں گے۔ ان کے خیال میں پاکستان اس طویل مرحلے کے بعد ایک نئے اور زیادہ مؤثر کردار کے ساتھ عالمی سطح پر سامنے آ سکتا ہے،اگرچہ اس سفر میں اسے کئی داخلی اور خارجی مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑے گا۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *