انسداددہشت گردی عدالت اسلام آباد نے ریاستی اداروں کیخلاف ڈیجیٹل دہشتگردی کے کیس میں عادل راجہ، صابرشاکر، معید پیرزادہ، وجاہت سعید ، حیدر مہدی کو 2، 2بار عمر قید کی سزاسنادی ۔
انسداددہشت گردی عدالت اسلام آباد میں 9 مئی کو ریاستی اداروں کے خلاف ڈیجیٹل دہشت گردی کے کیس کی سماعت ہوئی، جس میں اے ٹی سی جج طاہر عباس سپرا نے کچھ دیر قبل ہی ٹرائل مکمل ہونے پر محفوظ کیا گیا فیصلہ سنا دیا۔
عدالت میں پراسکیوشن کیجانب سے مجموعی طور پر 24 گواہان کو عدالت میں پیش کیا گیا ، تھانہ آبپارہ کے مقدمہ میں صابر شاکر، معید پیرزادہ اور سید اکبر حسین کو عمر قید کی سزا سنائی گئی۔
عدالت نے عادل راجہ، حیدر مہدی، وجاہت سعید ، کو 2، 2بار عمر قید کی سزا سنا دی ، صابر شاکر، معید پیرزادہ، کو بھی 2،2 بار عمر قید کی سزا سنا دی گئیں ، عدالت نے ملزمان کو دیگر دفعات میں بھی مجموعی طور پر 35 سال قید کی سزائیں سنائیں ۔
عدالت نے ملزمان کو مجموعی طور پر 15 لاکھ روپے جرمانے کی سزا بھی سنائی ۔
انسداد دہشتگردی عدالت نے تھانہ رمنا کے مقدمہ میں شاہین صبہائی، حیدر مہندی اور وجاہت سعید کو سزا سنائی گئی ، عدالت نے پراسیکوشن کی استدعا پر ملزمان کی غیر موجودگی میں ٹرائل مکمل کیا ، پراسکیوشن کیجانب سے راجہ نوید حسین کیانی عدالت میں پیش ہوئے ، عدالت میں ملزمان کیجانب سے گلفام اشرف گورائیہ ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے جنہیں عدالت کیجانب سے ملزمان کا وکیل مقرر کیا گیا تھا ۔
انسداددہشت گردی قوانین کے مطابق ملزمان کی عدم موجودگی میں ٹرائل کیا جاسکتاہے ۔
یاد رہے کہ یہ مقدمہ 9 مئی 2025 کو ریاستی اداروں کے خلاف کی گئی ڈیجیٹل دہشتگردی سے متعلق تھا، جس میں ملزمان نے مختلف آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے ملک کی سلامتی اور عوامی نظام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی تھی۔