سرکاری ملازمین کی ریٹائرمنٹ سے متعلق کارروائی کو مقررہ مدت میں مکمل کرنے کے لیے اہم ترمیمی بل پنجاب اسمبلی میں پیش کر دیا گیا ہے۔ مجوزہ بل کے تحت سرکاری ملازمین کی ریٹائرمنٹ پراسیس دو سال کے اندر حل کرنے کی حد مقرر کی گئی ہے۔
بل میں تجویز دی گئی ہے کہ اگر ریٹائرڈ ملازمین سے متعلق کارروائی دو سال کے اندر مکمل نہ ہو سکے تو مجاز اتھارٹی مدتِ ملازمت میں توسیع کر سکے گی۔ اس اقدام کا مقصد ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کے معاملات کو غیر ضروری تاخیر سے بچانا ہے۔
سرکاری ملازمین سے متعلق یہ اہم ترمیمی بل پنجاب اسمبلی کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے پاس بھیج دیا گیا ہے۔ پنجاب ایمپلائز ایفیشینسی، ڈسپلن اینڈ اکاونٹیبلٹی ترمیمی بل 2025 پنجاب اسمبلی میں پیش ہو چکا ہے، جس کے تحت ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کے خلاف کارروائی سے متعلق قانون میں اہم ترامیم منظور کی جائیں گی۔
بل کے متن کے مطابق مجاز اتھارٹی تحریری وجوہات کے ساتھ کارروائی کی مدت میں توسیع کر سکے گی۔ بل کا بنیادی مقصد ریٹائرڈ ملازمین کے خلاف زیر التواء انکوائریوں کے لیے واضح حد مقرر کرنا ہے، تاکہ عدالتی فیصلوں کے باعث ختم ہونے والی کارروائیوں سے پیدا ہونے والے مسائل کو حل کیا جا سکے۔
پنجاب اسمبلی کی اسٹینڈنگ کمیٹی ریٹائرڈ ملازمین سے متعلق قوانین کے اس بل پر سفارشات مرتب کرے گی۔ کمیٹی کی منظوری کے بعد بل کو پنجاب اسمبلی میں حتمی منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا، جبکہ اسمبلی سے منظوری ملنے کے بعد ترمیمی بل 2025 فوری طور پر نافذ العمل ہو جائے گا۔