پاکستان تحریک انصاف کے سابق رہنما علی زیدی کا کہنا ہے کہ ہمیں ایک فرد کے بجائے بحیثیت ملک کیلئےسوچنا پڑے گا۔
سب اپنی ذات کا سوچتے ہیں، کیا آپ نے انتقام اور بدلے کی سیاست کرنی ہے ؟ تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمیں ایک فرد کے بجائے بحیثیت ملک کے لئے سوچنا پڑے گا، سب اپنی ذات کا سوچتے ہیں، کیا آپ نے انتقام اور بدلے کی سیاست کرنی ہے ؟ یہ کوئی سلطان راہی کی مووی نہیں بلکہ 25کروڑ عوام کا ملک ہے، غلطیاں سب سے ہوتی ہیں، پھر ہمیں 1947 میں ملک کی آزادی کے بعد قائد اعظم محمد علی جناح کی بیماری اور وفات سے لے کر 11مئی تک غلطیاں گنوانے پر آجا ئیں تو وہ سیا ست دانوں کی بھی ہیں، پارٹی میں دوستوں کی جانب سے نکالے جانے کے حوالے سے سوال پر علی حیدر زیدی نے کہا کہ عمر ایوب میرا بہت اچھا دوست ہے اور کابینہ میں میرے برابر میں بیٹھتا تھا۔
جب پارٹی سے مجھے نکالا گیا تو اس کے دستخط تھے، ہم نے تو خود ہی پارٹی چھوڑ دی تھی، ہم تو بیان دے کر گھر بیٹھ گئے تھے، مجھ سمیت کتنے ہی لوگوں کو اس عمل سے تذلیل کا سامنا کرنا پڑا۔ لیکن اس کا فائدہ کیا ہوا۔ انہوں نے کہا کہ اگر میں کبھی زندگی میں سیاست میں واپس آیا تو میری نظر میں پاکستان تحریک انصاف کے سوا میرے پاس دوسرا کوئی آپشن نہیں جس میں جا سکوں، اسی لیے میں استحکام پاکستان پارٹی میں شامل نہیں ہوا ۔ انہوں نے کہا کہ میرا بانی پی ٹی آئی عمران خان سے سیاست سے پہلے کا ذاتی تعلق ہے، میں ان کے ساتھ جا کر کبھی بھی مل سکتا ہوں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ میں سیاست میں آ جاؤں البتہ جس دن مجھے سیاست میں آنا ہو گا اس دن مجھے کوئی مائی کا لعل روک نہیں سکتا ۔