چین اور پاکستان نے بیجنگ میں منعقد ہونے والے چین۔پاکستان وزرائے خارجہ کے ساتویں اسٹریٹجک ڈائیلاگ کے دوران اپنی ’سدا بہار اسٹریٹجک تعاون پر مبنی شراکت داری‘ کی دوبارہ توثیق کی اور سیاسی، معاشی، دفاعی، سلامتی اور عوامی روابط سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید گہرا کرنے پر اتفاق کیا۔
یہ ڈائیلاگ چینی وزیر خارجہ وانگ یی اور پاکستان کے نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار نے مشترکہ طور پر صدارت کرتے ہوئے منعقد کیا۔ محمد اسحاق ڈار وانگ یی کی دعوت پر 3 سے 5 جنوری تک چین کے دورے پر ہیں۔
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) January 5, 2026
مشترکہ پریس اعلامیے کے مطابق دونوں فریقین نے دوطرفہ تعلقات کے علاوہ علاقائی اور بین الاقوامی امور پر ’تفصیلی تبادلۂ خیال‘ کیا۔ انہوں نے اسٹریٹجک رابطے بڑھانے، باہمی اعتماد کو مضبوط کرنے، مشترکہ مفادات کے تحفظ اور علاقائی امن، استحکام اور ترقی کے فروغ پر اتفاق کیا۔
دونوں ممالک نے 2026 میں چین اور پاکستان کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ کے موقع پر یادگاری تقریبات کے آغاز کا اعلان کیا، جسے دیرینہ دوستی کو مزید مستحکم کرنے اور تعاون کے نئے شعبے تلاش کرنے کا موقع قرار دیا گیا۔
اعلامیے میں اس امر کا اعادہ کیا گیا کہ اعلیٰ سطح کے تبادلے چین۔پاکستان تعلقات کی نمایاں خصوصیت ہیں۔ دونوں فریقین نے ’نئے دور میں مشترکہ مستقبل کے حامل چین۔پاکستان معاشرے‘ کے لیے ایکشن پلان (2025–2029) پر عمل درآمد کے عزم کا اظہار کیا اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ چین کے تعلقات میں پاکستان کو اولین صف میں رکھنے پر اتفاق کیا۔
پاکستان نے صدر شی جن پنگ کی قیادت میں چین کی ترقیاتی کامیابیوں کو سراہا اور چین کے 14ویں پانچ سالہ منصوبے کی کامیاب تکمیل اور آئندہ 15ویں 5 سالہ منصوبے پر مبارکباد دی۔ چین نے پاکستان کی قیادت کو میکرو اکنامک استحکام کے حصول اور قومی اقتصادی تبدیلی کے منصوبے (2024–2029) ’اڑان پاکستان‘ کے تحت ترقی کی بنیاد رکھنے پر مبارکباد دی۔
اہم قومی مفادات کے حوالے سے پاکستان نے ایک چین اصول سے اپنی غیر متزلزل وابستگی کا اعادہ کیا اور کہا کہ تائیوان چین کا اٹوٹ انگ ہے۔ پاکستان نے ’تائیوان کی آزادی‘، ’دو چین‘ یا ’ایک چین، ایک تائیوان‘ جیسے کسی بھی تصور کی مخالفت کی۔ پاکستان نے سنکیانگ، زیزانگ، ہانگ کانگ اور بحیرہ جنوبی چین کے معاملات پر چین کی حمایت کا بھی اعادہ کیا۔ چین نے پاکستان کی خودمختاری، علاقائی سالمیت، انسداد دہشتگردی کی کوششوں اور ترقیاتی راستے کی بھرپور حمایت کی۔
چین نے دہشتگردی کے خلاف پاکستان کے اقدامات اور چینی اہلکاروں و منصوبوں کے تحفظ کو سراہتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کو تسلیم کیا۔ دونوں ممالک نے دہشت گردی کی ہر شکل کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت تعاون بڑھانے اور انسداد دہشت گردی میں دوہرے معیار کی مخالفت پر اتفاق کیا۔
دونوں فریقین نے چین۔پاکستان اقتصادی راہداری کے اپ گریڈڈ ورژن 2.0 کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا، جس میں صنعت، زراعت اور معدنیات کو کلیدی شعبے قرار دیا گیا۔ گوادر بندرگاہ کی ترقی، قراقرم ہائی وے کی روانی، پائیدار ترقی، تجارت، سرمایہ کاری، انفارمیشن ٹیکنالوجی، سائنس و ٹیکنالوجی، سائبر سکیورٹی، تعلیم اور ثقافتی تبادلوں میں تعاون بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا۔ طے شدہ اصولوں کے تحت تیسرے فریق کی شمولیت کا بھی خیرمقدم کیا گیا۔
مزید برآں، مالیاتی و بینکاری شعبوں، خلائی تعاون، جس کے تحت پاکستانی خلا بازوں کی چین کے اسپیس اسٹیشن میں متوقع شمولیت شامل ہے اور علاقائی و بین الاقوامی مالیاتی فورمز میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔
اعلامیے میں دوسری جنگ عظیم کے بعد قائم ہونے والے عالمی نظام، اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں اور تاریخی حقائق کے تحفظ کی حمایت کرتے ہوئے فاشزم اور عسکریت پسندی کے دوبارہ ابھرنے کی مخالفت بھی کی گئی۔ یہ ڈائیلاگ بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی حالات میں بیجنگ اور اسلام آباد کے درمیان گہرے اسٹریٹجک ہم آہنگی کی عکاسی کرتا ہے۔