عالمی امور پر گہری نگاہ رکھنے والے پاکستانی صحافی انس مالک نے دعویٰ کیا ہے کہ ’ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان کے حالیہ بیان نے ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ مذاکرات سے متعلق جاری قیاس آرائیوں کو نئی جہت دے دی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے بیانات اور تبصروں کے برعکس، ایرانی ترجمان کے الفاظ کا مفہوم مکمل انکار نہیں بلکہ موجودہ صورتحال کی عکاسی قرار دیا جا رہا ہے۔
ایک سینیئر صحافی انس مالک نے دعویٰ کیا ہے کہ کہ ایرانی ترجمان نے واضح طور پر کہاکہ ’فی الحال امریکا کے ساتھ مزید مذاکرات کے لیے کوئی ارادہ نہیں‘ ، جس میں ایرانی دفتر خارجہ کےترجمان اسماعیل بقائی نے کلیدی لفظ (yet) ’ابھی‘ استعمال کیا ہے، جس نے مذاکرات کے جاری رہنے کی امید پیدا کی ہے۔
To those reading Iran’s Foreign Ministry’s statement on different platforms should also listen to the actual statement of what Iran’s FM Spox said, “No plan, YET, for further talks” — The underline word here is yet — Its not an altogether denial or refusal, the statement is based…
صحافی انس مالک کا کہنا ہے کہ یہ نہیں کہ ایران نے مستقبل میں مذاکرات کا دروازہ بند کر دیا ہے، بلکہ یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ موجودہ حالات میں ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا اس لیے ابھی مذاکرات کے حوالے امید رکھنی چاہیے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے بھی پریس کانفرنس میں کہا کہ اس وقت اگلے دور کے مذاکرات کے حوالے سے فی الوقت کوئی فیصلہ یا ارادہ موجود نہیں ہے، تاہم اس امکان کو مکمل طور پر مسترد بھی نہیں کیا گیا۔
یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی برقرار ہے اور پاکستان کی میزبانی میں ممکنہ مذاکرات کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ایران نے بعض امریکی اقدامات، خصوصاً بحری ناکہ بندی اور دیگر شرائط کو مذاکرات میں رکاوٹ قرار دیا ہے، جس کے باعث پیش رفت سست روی کا شکار ہے۔
دوسری جانب ایرانی قیادت نے سفارتکاری کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے محتاط رویہ اختیار کیا ہے، تاہم امریکا پر عدم اعتماد کا اظہار بھی برقرار رکھا ہے۔
واضح رہے کہ ’نو پلان‘ ابھی’جیسے بیانات دراصل سفارتی زبان کا حصہ ہوتے ہیں، جو مذاکرات کے دروازے بند کرنے کے بجائے دباؤ بڑھانے اور بہتر شرائط حاصل کرنے کی حکمت عملی بھی ہو سکتے ہیں۔
یوں موجودہ صورتحال میں یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ مذاکرات مکمل طور پر ختم ہو چکے ہیں، بلکہ یہ عمل فی الحال تعطل کا شکار ہے، جس کے دوبارہ شروع ہونے کا امکان بدستور موجود ہے۔