سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کو عدالت نے شراب اور اسلحہ رکھنے کے مقدمے میں مسلسل غیر حاضر رہنے پر اشتہاری قرار دیتے ہوئے گرفتاری کا حکم دے دیا ہے۔
جوڈیشل مجسٹریٹ مبشر حسن چشتی نے تھانہ بہارہ کہو میں درج مقدمے کی سماعت کے دوران علی امین گنڈاپور کی عدم پیشی کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے ان کے وارنٹ گرفتاری بھی جاری کر دیے۔
علی امین گنڈاپور بدھ کو بھی عدالت میں پیش نہیں ہوئے، حالانکہ انہیں متعدد بار طلب کیا جا چکا تھا۔ مسلسل عدم پیشی پر عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں اشتہاری قرار دینے کا حکم سنایا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو فوری طور پر گرفتاری کی ہدایت جاری کر دی۔
سماعت کے دوران عدالت کو بتایا گیا کہ ملزم کے خلاف شراب اور اسلحہ رکھنے کا مقدمہ تھانہ بہارہ کہو میں درج ہے، تاہم وہ طویل عرصے سے عدالتی کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ قانون سب کے لیے برابر ہے اور کسی بھی شخص کو عدالتی احکامات سے انحراف کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
عدالت کے زبانی فیصلے کے مطابق اگر علی امین گنڈاپور مقررہ قانونی تقاضوں کے تحت پیش نہ ہوئے تو ان کے خلاف مزید سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ عدالتی حکم کے بعد پولیس کو وارنٹ گرفتاری پر فوری عملدرآمد کی ذمہ داری سونپ دی گئی ہے۔
واضح رہے کہ کسی بھی ملزم کی مسلسل غیر حاضری کی صورت میں اشتہاری قرار دیا جاتا ہے، جس کے بعد گرفتاری اور دیگر قانونی نتائج ناگزیر ہو جاتے ہیں۔ اس پیش رفت کو سیاسی اور قانونی حلقوں میں غیر معمولی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔