لاہور میں تین روزہ بسنت تہوار کے انعقاد کے لیے ابتدائی تخمینہ ایک ارب روپے لگایا گیا ہے، جبکہ اس موقع پر شہر کو دلہن کی طرح سجانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے بسنت کو منظم، محفوظ اور رنگا رنگ بنانے کے لیے مختلف سطحوں پر تیاریوں کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق بسنت کے دوران شہریوں کو فری ٹرانسپورٹ کی سہولت فراہم کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ عوام کو آمد و رفت میں آسانی میسر آ سکے۔ شہر بھر میں سجاوٹ، روشنیوں اور دیگر انتظامی اقدامات کیے جا رہے ہیں، جن کا مقصد بسنت کے تہوار کو یادگار بنانا ہے۔ اہم شاہراہوں، چوکوں اور مرکزی مقامات کو خصوصی طور پر سجایا جائے گا جبکہ رات کے وقت روشنیوں کے انتظامات کو بھی حتمی شکل دی جا رہی ہے۔
بسنت تقریبات کے لیے سیکیورٹی اور ٹریفک پلان پر بھی کام شروع کر دیا گیا ہے۔ انتظامیہ کے مطابق تہوار کے دوران امن و امان کو یقینی بنانے اور ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لیے جامع حکمت عملی تیار کی جا رہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بسنت سرویلنس کا عمل بھی جاری ہے تاکہ کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔
بسنت کے انعقاد کے سلسلے میں اسپانسرز، ٹریڈرز اور بائیرز کے لیے رجسٹریشن کا عمل شروع کر دیا گیا ہے، جس کے لیے رجسٹریشن فیس ایک ہزار سے پانچ ہزار روپے مقرر کی گئی ہے۔ آن لائن بسنت پورٹل کے ذریعے اب تک 400 سے زائد پتنگ سازوں نے اپنی رجسٹریشن مکمل کر لی ہے، جس سے بسنت کی سرگرمیوں میں بھرپور شرکت کا عندیہ ملتا ہے۔
انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ پنجاب کائٹ فلائنگ آرڈیننس کے تحت چرخی اور تیز مانجھا مکمل طور پر ممنوع ہیں۔ بسنت کے دوران صرف منظور شدہ اور مقررہ معیار کے مطابق مواد استعمال کرنے کی اجازت ہو گی۔ اس حوالے سے سخت نگرانی اور چیکنگ کا نظام بھی نافذ کیا جائے گا تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ بسنت تہوار کے تمام انتظامات قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے مکمل کیے جائیں گے، تاکہ شہری محفوظ ماحول میں اس ثقافتی تہوار سے لطف اندوز ہو سکیں۔