بھارت میں جمہوری روّیے ناپید، اقلیتوں کے خلاف ریاستی جبر کا پردہ بھی فاش

بھارت میں جمہوری روّیے ناپید، اقلیتوں کے خلاف ریاستی جبر کا پردہ بھی فاش

بھارت میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتی طبقات کے خلاف منظم جبر، امتیازی سلوک اور مبینہ نسل کشی سے متعلق ریاستی پالیسی ایک بار پھر بے نقاب ہو گئی ہے۔

معروف بھارتی اداکار اور ہدایت کار پراکاش راج نے مودی حکومت اور آر ایس ایس کے گٹھ جوڑ پر کھل کر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ بھارتی نظام ہندوتوا ایجنڈے کے تابع ہو چکا ہے، جہاں ریاستی ادارے بھی آزادانہ کردار ادا کرنے سے قاصر دکھائی دیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:بھارت کو ایک اور ’منہ کی کھانی پڑی‘، پاکستان اور سعودی عرب کا اہم مشترکہ منصوبہ شروع کرنے پرغور

پراکاش راج کے مطابق مسلمانوں، قبائلیوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف ایک منظم ایجنڈے کے تحت کارروائیاں کی جا رہی ہیں، جن کا مقصد معاشرتی خوف پیدا کرنا اور مخصوص طبقات کو دیوار سے لگانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت میں اب انصاف میں تاخیر نہیں ہو رہی بلکہ انصاف کا کھلا انکار کیا جا رہا ہے، جس سے عام شہری کا عدالتی نظام پر اعتماد ختم ہوتا جا رہا ہے۔

بھارتی اداکار نے پولیس کے کردار پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ غیرقانونی، جابرانہ اور بدعنوان پولیس رویوں نے عوام کو تھانوں سے خوفزدہ کر دیا ہے۔ ان کے مطابق قانون نافذ کرنے والے ادارے طاقتور طبقے کے مفادات کے تحفظ میں مصروف ہیں جبکہ کمزور طبقات کو دبانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

پراکاش راج نے آر ایس ایس کو بھارت کے لیے اصل خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ تنظیم ریاستی پالیسیوں پر گہرے اثرات مرتب کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارتی وزیر اعظم کی موجودگی میں رام مندر میں پرچم کشائی مودی اور آر ایس ایس کے گٹھ جوڑ کا واضح ثبوت ہے، جس سے ریاست اور مذہبی انتہا پسندی کے امتزاج کا کھلا اظہار ہوتا ہے۔

مزید پڑھیں:پاک بھارت جنگ بندی کیلئےبھارتی وزیر خارجہ کی تگ و دو، امریکی حکام سے ملاقاتوں کیلئے لابنگ فرم استعمال کیے جانے کا انکشاف

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بی جے پی اور آر ایس ایس آئین میں تبدیلی، اقلیتوں کے حقوق محدود کرنے اور جمہوری اقدار کو کمزور کرنے کے اقدامات کے ذریعے اپنا ایجنڈا پہلے ہی واضح کر چکی ہیں۔ ماہرین کے مطابق مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد بھارتی جمہوریت محض ایک فریب بن کر رہ گئی ہے، جہاں اظہارِ رائے، مذہبی آزادی اور سماجی مساوات شدید خطرات سے دوچار ہیں۔

تجزیہ کاروں کا مزید کہنا ہے کہ بھارت میں بڑھتی ہوئی انتہا پسندی نہ صرف اقلیتوں بلکہ پورے خطے کے امن کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ عالمی برادری سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ بھارت میں انسانی حقوق کی صورتحال کا سنجیدگی سے نوٹس لے اور اقلیتوں کے تحفظ کے لیے مؤثر کردار ادا کرے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *