تاجکستان کے ساتھ حلال گوشت کی تجارت، پاکستان کو ملین ڈالر کا فائدہ

تاجکستان کے ساتھ حلال گوشت کی تجارت، پاکستان کو ملین ڈالر کا فائدہ

پاکستان تاجکستان کو 143 ہزار ٹن حلال گوشت برآمد کرنے کے لیے تیار ہے، جس کی مجموعی مالیت 14 اعشاریہ 5 ملین ڈالر بتائی جا رہی ہے۔ یہ پیش رفت دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت کے فروغ کی جانب ایک اہم قدم قرار دی جا رہی ہے۔

فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور ملک بھر کے مختلف چیمبرز آف کامرس کی قیادت نے پاکستان میں تاجکستان کے سفیر یوسف شریف زادہ توئیر کی کوششوں کو سراہا ہے، جنہوں نے خاص طور پر حلال گوشت کے شعبے میں برآمدات بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔

یہ بھی پڑھیں:گوادر پورٹ پاکستان کی تجارتی ترقی کے لیے اہم سنگ میل ہے، احسن اقبال

ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حلال گوشت کے شعبے میں وسیع مواقع موجود ہیں اور تاجکستان کو مجوزہ برآمدات سے نہ صرف حلال مصنوعات کی تجارت بڑھے گی بلکہ مجموعی دوطرفہ تجارت میں بھی اضافہ ہوگا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ آنے والے برسوں میں پاکستان اور تاجکستان کے درمیان تجارت کا حجم 500 ملین ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔

اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر سردار طاہر محمود نے کہا کہ تاجکستان پاکستان کا ایک اہم تجارتی شراکت دار ہے اور حلال تجارت اور زرعی مصنوعات سمیت مختلف شعبوں میں بے پناہ صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سفیر یوسف شریف زادہ توئیر نے دوطرفہ تجارت بڑھانے اور مستقبل کا واضح معاشی وژن دینے میں مؤثر کردار ادا کیا ہے۔

آئی سی سی آئی کے مطابق حلال گوشت کی برآمدات کا یہ منصوبہ تاجکستان کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کے لیے ہے، جس نے پہلے ہی تقریباً 100 ہزار ٹن گوشت درآمد کرنے میں دلچسپی ظاہر کی تھی۔ یہ اقدام بہتر تجارتی سہولیات، لاجسٹکس اور ممکنہ ترجیحی تجارتی معاہدوں کے ذریعے دوطرفہ تجارت کو 500 ملین ڈالر تک لے جانے کی وسیع حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔

لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر فہیم الرحمان سیگل نے پاکستان اور تاجکستان کے درمیان ترجیحی تجارتی معاہدے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ تجارتی آزادی خطے میں معاشی انضمام کے فروغ کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست فضائی پروازوں کی بحالی سے نہ صرف تجارتی اور معاشی تعلقات مضبوط ہوں گے بلکہ ثقافتی روابط اور سیاحت کو بھی فروغ ملے گا۔

راولپنڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر عثمان شوکت نے کہا کہ تاجکستان پاکستان کے لیے ایک اہم تجارتی شراکت دار ہے اور وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ علاقائی معاشی انضمام میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے تاجکستان کی سالانہ 8 فیصد معاشی ترقی کو سراہتے ہوئے دونوں ممالک کے کاروباری حلقوں کے درمیان وفود کے تبادلے کی ضرورت پر زور دیا۔

مزید پڑھیں:تاجکستان ڈرون حملےاور امریکہ میں فائرنگ کی ذمہ دار افغان حکومت ہے،دفتر خارجہ

حکام کے مطابق یہ منصوبہ عالمی حلال مارکیٹ میں پاکستان کے حصے میں اضافے کی پالیسی کے عین مطابق ہے، جس کا مقصد خاص طور پر مسلم اکثریتی ممالک میں برآمدات بڑھانا ہے۔ اس پالیسی کے تحت مویشیوں کی پیداوار میں بہتری، کولڈ اسٹوریج سہولیات میں اضافہ اور بین الاقوامی معیار پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔

پاکستان سالانہ تقریباً 60 لاکھ میٹرک ٹن حلال گوشت پیدا کرتا ہے، جس میں سے ملکی ضروریات پوری کرنے کے بعد وافر مقدار برآمد کے لیے دستیاب ہے۔ وزارتِ تجارت کے حکام کے مطابق تاجکستان کو برآمدات قریبی مستقبل میں شروع ہونے کی توقع ہے، جو وسطی ایشیائی منڈیوں تک پاکستان کی رسائی کو مزید مضبوط بنائے گی اور ملائیشیا، سعودی عرب، ایران اور خلیجی ممالک کے ساتھ جاری برآمدی کوششوں کی تکمیل کرے گی۔

Related Articles