فرانزک رپورٹ تیار، سہیل آفریدی سمیت 9 مئی واقعات میں ملوث اہم سیاسی شخصیات کے ملوث ہونے کی تصدیق ہوگئی

فرانزک رپورٹ تیار، سہیل آفریدی سمیت 9 مئی واقعات میں ملوث اہم سیاسی شخصیات کے ملوث ہونے کی تصدیق ہوگئی

پنجاب فارنزک سائنس ایجنسی (پی ایف ایس اے) نے 9 مئی کے واقعات سے متعلق پشاور کے ایک مقدمے میں عدالت کے حکم پر پشاور پولیس کی جانب سے جمع کرائی گئی بیشتر ویڈیوز کو مستند قرار دیتے ہوئے ریکارڈنگز میں نظر آنے والے متعدد افراد کی شناخت کی تصدیق کر دی ہے۔

عدالتی حکم پر تیار کی گئی پی ایف ایس اے کی آڈیو ویژول تجزیاتی رپورٹ کے مطابق یہ جانچ پڑتال پشاور کے تھانہ ایسٹ کینٹ کی جانب سے ایف آئی آر نمبر 221/23 (مورخہ 10 مئی 2023) کے تحت جمع کرائی گئی ایک یو ایس بی ڈرائیو پر کی گئی۔ یہ تجزیہ سی سی پی او پشاور کے لیے ایس ایس پی (کوارڈینیشن) کی درخواست پر کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:عدالت نے 9 مئی جی او آر گیٹ حملہ کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا، پی ٹی آئی رہنماوں کو 36، 36 سال قید کی سزا

ایجنسی کے مطابق سام سنگ کی 8 جی بی یو ایس بی ڈرائیو 19 دسمبر 2025 کو سیل شدہ پیکٹ میں پی ایف ایس اے لاہور موصول ہوئی۔ ڈیٹا کو فرانزک بریج ڈیوائس کے ذریعے رائٹ بلاک کیا گیا اور تصدیق شدہ ورکنگ کاپی پر فریم بہ فریم تجزیہ کیا گیا، جو مقررہ فرانزک طریقۂ کار کے مطابق تھا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ یو ایس بی ڈرائیو میں مجموعی طور پر 16 ویڈیو فائلز موجود تھیں۔ فرانزک تجزیے کے مطابق سیریل نمبر 1 سے 8 تک کی ویڈیوز میں کسی قسم کی ایڈیٹنگ کے آثار نہیں ملے۔ سیریل نمبر 9 کی ویڈیو میں بھی ایڈیٹنگ کے شواہد نہیں پائے گئے، سوائے ایک مقام پر فریمز کو جوڑنے کے۔

CamScanner 02-01-2026 15.46 by Iqbal Anjum

 سیریل نمبر 10 سے 12 تک کی ویڈیوز میں لوگو یا متن شامل کیے جانے کے آثار سامنے آئے، جبکہ سیریل نمبر 13 اور 14 کی ویڈیوز میں لوگو یا متن کے اضافے کے ساتھ متعدد مقامات پر فریمز جوڑنے کے شواہد ملے۔ تاہم سیریل نمبر 15 اور 16 کی ویڈیوز میں مختلف کیمرا زاویوں سے بنائی گئی متعدد ویڈیو کلپس کو جوڑنے اور ضم کرنے کی واضح ایڈیٹنگ پائی گئی۔

ویڈیو تجزیے کے ساتھ ساتھ پی ایف ایس اے نے یو ایس بی ڈرائیو میں موجود پروفائل تصاویر کی بنیاد پر چہروں کا تقابلی جائزہ بھی لیا۔ رپورٹ کے مطابق عامر خان چمکنی، عرفان سلیم، کامران بنگش، سہیل آفریدی اور تیمور جھگڑا کی پروفائل تصاویر میں موجود چہروں کی خصوصیات ویڈیوز میں نظر آنے والے مشتبہ افراد سے مطابقت رکھتی ہیں۔

یہ فرانزک جانچ پڑتال 19 دسمبر سے 23 دسمبر 2025 تک جاری رہی، جبکہ رپورٹ 23 دسمبر 2025 کو جاری کی گئی۔ پی ایف ایس اے نے وضاحت کی کہ رپورٹ میں دیے گئے نتائج صرف انہی شواہد تک محدود ہیں جو ایجنسی کو موصول ہوئے اور جن کا تجزیہ کیا گیا۔

ایجنسی کے مطابق کیس سے متعلق شواہد فی الحال لیبارٹری میں محفوظ ہیں اور رپورٹ موصول ہونے کے سات دن کے اندر وصول کیے جا سکتے ہیں۔

فرانزک رپورٹ سے توقع کی جا رہی ہے کہ یہ خیبرپختونخوا پولیس کی جاری تفتیش میں اہم کردار ادا کرے گی۔

مزید پڑھیں:9 مئی ، جی اوآرحملہ کیس: یاسمین راشد، اعجاز چوہدری و دیگر کو 10، 10سال قید کی سزا، شاہ محمود بری

واضح رہے کہ انسداد دہشت گردی عدالت نے ریڈیو پاکستان پشاور حملہ کیس کی سماعت کے دوران پولیس سے ویڈیوز کی تصدیقی رپورٹ طلب کی تھی، جس کے بعد پشاور پولیس نے یہ ویڈیوز فرانزک تجزیے کے لیے پنجاب فرانزک سائنس لیبارٹری کو ارسال کی تھیں۔

قانونی ماہرین کے مطابق یہ رپورٹ آئندہ عدالتی کارروائی میں ایک اہم دستاویز کے طور پر پیش کی جا سکتی ہے، جس سے کیس کی سمت کا تعین ہونے کا امکان ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *