سہیل آفریدی کا افغانستان کی دہشتگردی کے ثبوت مانگنا پاکستان سے بہت بڑی بددیانتی ہے،عمر چیمہ برس پڑے

سہیل آفریدی کا افغانستان کی دہشتگردی کے ثبوت مانگنا پاکستان سے بہت بڑی بددیانتی ہے،عمر چیمہ برس پڑے

سینئر صحافی عمر چیمہ نے جیو نیوز کے پروگرام “رپورٹ کارڈ” میں گفتگو کرتے ہوئے خیبرپختونخوا کے وزیراعلٰی سہیل آفریدی کے حالیہ بیان پر شدید تنقید کی انہوں نے کہا کہ سہیل آفریدی کا افغانستان کی دہشتگردی کے ثبوت مانگنا پاکستان کے مفاد کے خلاف ایک بہت بڑی بددیانتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ٹی ٹی پی ان کا مسلح ونگ ہے، مائوں کے بچے مر رہے اور وزیر اعلیٰ اس طرح کے بیانات دے رہا ہے ،اس کا محاسبہ ہونا چاہیے سیاست اس لیول پر نہیں گر سکتی اتنے سنجیدہ معاملے کو سیاست کی نذر کررہے ہیں اور وہ بھی اس صوبے کا وزیر اعلیٰ جو دہشتگردی سے سب سے زیادہ متاثر ہے ، ایک ایم پی اے کو یہ بیان زیب نہیں دیتا تو یہ وزیر اعلیٰ ہوکر ایسے بیانات دے رہا ہے، بہت حیران کن اور شدید قابل مذمت ہے ۔

سہیل آفریدی سے مطالبہ ہونا چاہیے کہ اپنا یہ بیان واپس لے ۔عمر چیمہ نے کہاکہ ایسا لگتا ہی نہیں کہ یہ بندہ کے پی کا وزیراعلٰی ہے۔ یہ بیان غیر سنجیدہ انسان کی علامت ہے اور اس سے ثابت ہوتا ہے کہ سہیل آفریدی وزارت اعلیٰ کے عہدے کے اہل ہی نہیں یہ بیان انتہائی شرمناک ہے۔.

یہ بھی پڑھیں :پی ٹی آئی کے دہشتگردوں سے نرم رویے کی آخر کیا وجہ ہے؟طلال چوہدری

 انہوں نے واضح کیا کہ یہ کوئی حکمتِ عملی نہیں بلکہ کم عقلی یا بددیانتی کی علامت ہے اور اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وزیرِاعلیٰ اس عہدے کے لیے ابھی تک تیار نہیں عمر چیمہ نے کہاکہ یہ بیان ایک غیر سنجیدہ شخص کی عکاسی کرتا ہے۔ آج سہیل آفریدی نے جو کہا اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ وزارت اعلیٰ کے اہل نہیں۔

یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہمیں فلاں بریفنگ نہیں دی گئی، فلاں بریفنگ نہیں دی گئی، لیکن انہیں اپنے آئی جی یا کسی ڈی پی او سے پوچھ لینا چاہیے۔ آج ضلع ٹانک میں ان کے اپنے پولیس اہلکار شہید ہوئے ہیں، وہاں کے ڈی پی او واضح طور پر بتا سکتا ہے کہ دہشتگرد کہاں سے آتے ہیں۔

سینئر صحافی نے سوال اٹھایا کہ اگر دہشتگرد افغانستان سے نہیں آ رہے تو پھر یہ واضح ہونا چاہیے کہ دہشتگردی پاکستان کے اندر سے ہو رہی ہے اور اس کے پیچھے کون سرپرستی اور سہولت کاری فراہم کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیرِاعلیٰ کے ترجمان شفیع جان کے ٹی ٹی پی سے متعلق جواب دہی میں گریز اور واضح موقف اختیار نہ کرنا اس خدشے کو مزید تقویت دیتا ہے کہ یہ عناصر ان کے لیے نرم رویہ اختیار کر رہے ہیں۔

عمر چیمہ نے اس بات پر زور دیا کہ خیبرپختونخوا کا وزیرِاعلیٰ وہ شخص ہے جو خود دہشتگردی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقے سے منتخب ہوا ہے، جہاں ابھی بھی آپریشن جاری ہیں۔ اس کے باوجود اس قسم کے غیر ذمہ دارانہ بیانات دینا نہ صرف خطرناک ہے بلکہ قومی سلامتی کے لیے نقصان دہ بھی ہے۔

صحافی نے کہا کہ اس معاملے پر اسمبلی کو فوری اجلاس بلانا چاہیے اور وزیرِاعلیٰ سے باقاعدہ وضاحت طلب کرنی چاہیے۔ انہوں نے تجویز دی کہ وزیرِاعلیٰ کو اپنے آئی جی، ڈی پی اوز اور سی ٹی ڈی چیف کے ساتھ کور کمانڈر کی ان کیمرا بریفنگ میں شریک ہونا چاہیے اور واضح کرنا چاہیے کہ دہشتگردی افغانستان سے ہو رہی ہے یا پاکستان کے اندر اور اگر اندر سے ہو رہی ہے تو سرپرستی کون فراہم کر رہا ہے۔عمر چیمہ نے زور دیا کہ یہ کوئی سیاسی بیان نہیں بلکہ قومی سلامتی کا معاملہ ہے اور اس قسم کے غیر سنجیدہ رویے ملک کے لیے خطرناک بیانیہ قائم کر سکتے ہیں۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *