پی ٹی آئی کے بانی رہنما نےاپوزیشن لیڈر کی تقرری سے متعلق بڑا اعلان کردیا

پی ٹی آئی کے بانی رہنما نےاپوزیشن لیڈر کی تقرری سے متعلق بڑا اعلان کردیا

پاکستان تحریک انصاف کے بانی رہنما اکبر ایس بابر نے قومی اسمبلی کے اسپیکر کی جانب سے محمود خان اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر مقرر کرنے کے ممکنہ فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے قانونی فورم پر چیلنج کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر اسپیکر قومی اسمبلی نے ایسا کوئی نوٹیفکیشن جاری کیا تو یہ سپریم کورٹ کے واضح اور دوٹوک فیصلے کی کھلی خلاف ورزی ہوگی جسے کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔اکبر ایس بابر کے مطابق سپریم کورٹ کا فیصلہ پی ایل ڈی 2018 (صفحہ 370) اس حوالے سے بالکل واضح ہے، جس میں عدالت عظمیٰ قرار دے چکی ہے کہ سزا یافتہ شخص سیاسی فیصلوں کا مجاز نہیں ہو سکتا۔

ان کا کہنا تھا کہ قومی اسمبلی کے قواعد و ضوابط بھی اسپیکر کو یہ اختیار نہیں دیتے کہ وہ کسی سزا یافتہ فرد کی خواہش یا ایما پر اپوزیشن لیڈر کی تعیناتی کریں، انہوں نے واضح کیا کہ آئین اور قانون سے بالاتر ہو کر کیا جانے والا کوئی بھی اقدام نہ صرف غیر قانونی ہوگا بلکہ اس کے سنگین آئینی نتائج بھی سامنے آ سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :اکبر ایس بابر نے عمران خان سے متعلق بڑا انکشاف کردیا

پی ٹی آئی کے بانی رہنما نے خبردار کیا کہ اگر سپریم کورٹ کے فیصلے کو نظر انداز کیا گیا تو یہ عمل توہینِ عدالت کے زمرے میں آئے گا اور اسے ’’مک مکا کی سیاست‘‘ کی ایک اور مثال سمجھا جائے گاان نے کہا کہ مک مکا کی سیاست نے ملک میں جمہوری اقدار کو کمزور کیا عوام کو مشکلات میں مبتلا کیا اور مخصوص حکمران طبقے کو فائدہ پہنچایا انہوں نے کہا کہ مفاہمت کے نام پر جو سیاسی سمجھوتے کیے جاتے رہے ہیں، انہی کا نتیجہ ہے کہ ملک دشمن عناصر کو کھلی چھوٹ ملتی رہی ہے۔

اکبر ایس بابر نے مزید کہا کہ پاکستان میں بااثر سیاست دان اگر ملکی مفادات کے خلاف سرگرمیاں کریں، ریاستی اداروں کو بدنام کریں، قومی وسائل لوٹیں یا معیشت کو نقصان پہنچائیں تو اکثر قانون کی گرفت سے بچ نکلتے ہیں۔

ان کے مطابق یہی طبقہ معاشرے میں انتشار پھیلانے، اداروں پر حملوں اور حتیٰ کہ دہشت گرد عناصر کی سہولت کاری جیسے الزامات کے باوجود احتساب سے بالاتر نظر آتا ہے، جو ایک تشویشناک صورتحال ہےانہوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ مفاہمت کے نام پر کی جانے والی اس ’’مک مکا سیاست‘‘ کو ہمیشہ کے لیے دفن کر دیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ جس طرح بیرونی دشمنوں کے خلاف معرکہ حق لڑا گیا، اسی طرح اندرونی دشمنوں کے خلاف بھی ایک نئے اور فیصلہ کن مرحلے کا آغاز ہونے والا ہے۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *