وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں سولر پینلز پر سیلز ٹیکس کی موجودہ شرح برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، جسے صارفین اور شمسی توانائی سے وابستہ صنعت کے لیے ایک اہم ریلیف قرار دیا جا رہا ہے۔
اس فیصلے کا مقصد مہنگی بجلی کے بوجھ سے متاثرہ عوام کو سہولت دینا اور ملک میں قابلِ تجدید توانائی کے استعمال کو فروغ دینا ہے،اس اقدام سے توقع کی جا رہی ہے کہ سولر انرجی کا استعمال مزید بڑھے گا اور گھریلو و تجارتی صارفین کے لیے بجلی کے اخراجات میں کمی آئے گی۔
بجٹ سے قبل یہ خدشات ظاہر کیے جا رہے تھے کہ سولر پینلز پر ٹیکس میں اضافہ کیا جا سکتا ہے، تاہم حکومت نے اس حوالے سے کوئی نیا بوجھ نہ ڈالنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس سے قبل بھی سولر انڈسٹری میں ٹیکس پالیسیوں کے حوالے سے مختلف تبدیلیاں سامنے آ چکی ہیں، جن کے باعث مارکیٹ میں قیمتوں اور طلب پر اثرات مرتب ہوئے تھے۔
موجودہ فیصلے کو اس شعبے کے لیے استحکام کی علامت قرار دیا جا رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ملک میں توانائی کے بحران اور بجلی کے بڑھتے ہوئے نرخ عوام کے لیے بڑا مسئلہ بنے ہوئے ہیں۔
حکومتی مؤقف کے مطابق متبادل توانائی کے فروغ کو ترجیح دی جا رہی ہے تاکہ مستقبل میں درآمدی ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکے اور توانائی کے شعبے کو زیادہ پائیدار بنیادوں پر استوار کیا جا سکے۔