گوگل جیمنائی نے خاتون کو کروڑ پتی بنا دیا

گوگل جیمنائی نے خاتون کو کروڑ پتی بنا دیا

امریکا میں 88 سالہ خاتون کی ایک پرانی پینٹنگ اس وقت خبروں کی زینت بن گئی جب مصنوعی ذہانت کی مدد سے معلوم ہوا کہ یہ ایک قیمتی شاہکار ہے، جو بعد ازاں 2 لاکھ 54 ہزار ڈالر (تقریباً 7 کروڑ پاکستانی روپے) میں فروخت ہو گئی۔

نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق نیویارک سے تعلق رکھنے والی ہیلین پلاٹکن نے یہ پینٹنگ 1966 میں ایک تھرفٹ اسٹور سے 100 ڈالر سے بھی کم قیمت میں خریدی تھی۔ وہ تقریباً 60 سال تک اسے اپنے گھر کی دیوار پر سجائے رکھیں، مگر انہیں اس کی اصل اہمیت کا اندازہ نہیں تھا۔

گزشتہ برس ان کے بیٹے بیری نے یہ جاننے کا فیصلہ کیا کہ آیا اس پینٹنگ کی کوئی مالی قدر بھی ہے یا نہیں۔ انہوں نے پینٹنگ کی تصویر کھینچ کر گوگل کےاےآئی(AI) چیٹ بوٹ ’جیمنائی‘ کو دکھائی اور اس کے بارے میں معلومات طلب کیں۔

یہ بھی پڑھیں :ماچس کی ڈبیا جتنا جنریٹر، مستقبل کی توانائی کا نیا حل

جیمنائی نے پینٹنگ کے رنگوں اور آرٹ اسٹائل کا تجزیہ کرتے ہوئے اسے معروف اسکاٹش مصورایف سی بی کیڈیل کے فن پاروں سے مشابہ قرار دیا۔ اے آئی(AI) ٹول نے ایسے ماہرین کی بھی نشاندہی کی جو اس پینٹنگ کی جانچ کر سکتے تھے۔

بعد ازاں معروف آکشن ہاؤس لایون اینڈ ٹرن بل کے ماہرین نے تصدیق کی کہ یہ واقعی ایف سی بی کیڈیل کی تخلیق ہے۔ اگرچہ جیمنائی پینٹنگ کے موضوع کی شناخت میں غلطی کر گیا تھا، تاہم مصور کی درست نشاندہی نے اس فن پارے کی اصل قدر سامنے لانے میں اہم کردار ادا کیا۔

یہ بھی پڑھیں :یوٹیوب میں بڑا اپڈیٹ، اب ایپ کے اندر چیٹ بھی ممکن

ماہرین کی تصدیق کے بعد پینٹنگ نیلامی میں 2 لاکھ 54 ہزار ڈالر میں فروخت ہوئی۔ پینٹنگ فروخت ہونے کے بعد ہیلین پلاٹکن نے خریدار سے صرف ایک خواہش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ چاہتی ہیں کہ یہ فن پارہ کسی دن عوامی نمائش کا حصہ بنے تاکہ ان کے پوتے پوتیاں بھی اسے دیکھ سکیں۔

یہ واقعہ اس بات کی ایک دلچسپ مثال بن گیا ہے کہ جدید مصنوعی ذہانت بعض اوقات برسوں سے پوشیدہ قیمتی چیزوں کے راز بھی سامنے لا سکتی ہے۔

editor

Related Articles