دنیا بھر میں اپنی غیر معمولی پیش گوئیوں کے باعث جانی جانے والی بابا وانگا نے برسوں پہلے ٹیکنالوجی کے مستقبل کے بارے میں جو بات کہی تھی، وہ آج کے ڈیجیٹل دور میں سچ کے قریب دکھائی دیتی ہے، اگرچہ ان کی یہ پیش گوئی اُس وقت زیادہ توجہ حاصل نہ کر سکی، مگر موجودہ حالات نے اسے دوبارہ موضوعِ بحث بنا دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق بابا وانگا کا کہنا تھا کہ آنے والے وقت میں انسان روزمرہ معاملات کے لیے چھوٹے الیکٹرونک آلات پر انحصار کرنے لگے گا، ان کا خیال تھا کہ یہ آلات نہ صرف زندگی کو آسان بنائیں گے بلکہ انسانوں کے باہمی رابطے اور تعلقات کے انداز کو بھی بدل ڈالیں گے، آج موبائل فون، ٹیبلٹ اور کمپیوٹر زندگی کے ہر شعبے میں مرکزی حیثیت اختیار کر چکے ہیں، جہاں بچے ہوں یا بزرگ، ہر عمر کا فرد ڈیجیٹل اسکرین سے جڑا نظر آتا ہے۔
اسکرین ٹائم اور سماجی فاصلے
بابا وانگا نے یہ انتباہ بھی کیا تھا کہ ٹیکنالوجی پر بڑھتا انحصار حقیقی زندگی کے تعلقات کو کمزور کر دے گا، موجودہ دور میں یہی منظر سامنے آ رہا ہے، جہاں اسکرین ٹائم میں نمایاں اضافہ ہو چکا ہے اور لوگ آمنے سامنے میل جول کے بجائے ڈیجیٹل رابطوں کو ترجیح دینے لگے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اس تبدیلی نے ذہنی صحت پر بھی اثرات مرتب کیے ہیں، جن میں بے چینی، ڈپریشن اور توجہ کی کمی جیسے مسائل شامل ہیں ، تحقیقی رپورٹس سے معلوم ہوتا ہے کہ ڈیجیٹل آلات کا بے جا استعمال خاص طور پر بچوں اور نوجوانوں کے لیے تشویش کا باعث بن رہا ہے۔
نیشنل کمیشن فار پروٹیکشن آف چائلڈ رائٹس کی ایک تحقیق کے مطابق تقریباً ایک چوتھائی بچے سونے سے پہلے بستر میں اسمارٹ فون استعمال کرتے ہیں، اور عمر بڑھنے کے ساتھ یہ رجحان مزید بڑھ جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف نیند متاثر ہو رہی ہے بلکہ جسمانی سرگرمیوں میں بھی کمی دیکھی جا رہی ہے۔
حیرت انگیز پیش گوئیاں، مسلسل بحث
بابا وانگا کو ماضی میں کئی اہم عالمی واقعات کے درست اندازوں کی وجہ سے شہرت حاصل ہوئی، جن میں دوسری جنگِ عظیم، 11 ستمبر کے واقعات اور 2004 کا سونامی شامل ہیں۔ اگرچہ وہ نابینا تھیں، مگر ان کی پیش گوئیوں نے انہیں ایک پراسرار شخصیت بنا دیا۔
آج ٹیکنالوجی کے بڑھتے اثرات کو دیکھتے ہوئے کئی لوگ یہ ماننے لگے ہیں کہ جدید ڈیجیٹل دور کے عروج کے بارے میں ان کا اندازہ بھی حقیقت کے قریب تھا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی نے جہاں معیارِ زندگی بہتر بنایا ہے، وہیں اس کے غیر محتاط استعمال کے نتائج پر سنجیدہ غور و فکر کی ضرورت بھی بڑھ گئی ہے، تاکہ آنے والی نسلوں کو اس کے منفی اثرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔