سانحہ گل پلازہ میں مرنے والوں کے آخری پیغامات نے ہر آنکھ اشکبار کردی

سانحہ گل پلازہ میں مرنے والوں  کے آخری پیغامات نے ہر آنکھ اشکبار کردی

کراچی کے مصروف تجارتی علاقے میں واقع گل پلازہ میں لگنے والی ہولناک آگ نے صرف ایک عمارت کو نہیں بلکہ درجنوں خاندانوں کی امیدیں، خواب اور خوشیاں بھی خاکستر کر ڈالیں، آخری وقت میں اپنے پیاروں کو کی گئی  لرزتی آوازوں میں مدد کی فریادوں کیساتھ الوداعی پیغامات نے ایسا دردناک منظر چھوڑا کہ سننے اور دیکھنے والی ہر آنکھ اشکبار ہو گئی۔

گل پلازہ میں لگنے والی خوفناک آگ ایک دکان سے شروع ہوئی اور دیکھتے ہی دیکھتے پوری عمارت کو نگل گئی، اس سانحے میں اب تک 14  افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ 59 افراد تاحال لاپتہ ہیں ، جن میں دکاندار اور خریدار شامل ہیں اور رشتہ دار اپنے پیاروں کی خبر لینے کے لیے دربدر  پھر رہے ہیں۔

 اس سانحے کے دوران پلازہ میں پھنسے دکاندار سرفراز قادری نے آخری آڈیو پیغام میں کہا: “چاروں طرف آگ ہے، میں پھنس چکا ہوں، میری جو بھی غلطی ہو معاف کردینا”۔

اسی طرح آڈیو میں خاتون اور بچوں کی بھی آوازیں سنائی دے رہی ہیں، جبکہ ایک شخص استغفراللہ استغفراللہ کی صدائیں دیتا ہوا سنا جا رہا ہے۔

ایک اور پیغام میں  ایک نوجوان کی اپنے بھائی کو کی گئی آخری کال نے ہر سننے والے  کو دل تھامنے پر مجبور کردیا ، جب اس نے لرزتی آواز میں کہا میں مر جاؤں گا، مجھے بچالو!  یہ الفاظ آج بھی متاثرہ خاندانوں کے کانوں میں گونج رہے ہیں، نوجوان کے بھائی نے بتایا کہ دکان کے دیگر افراد نے کھڑکی توڑنے کی کوشش کی، لیکن کامیابی نہ مل سکی۔

یہ بھی پڑھیں : گل پلازہ سانحہ کی اصل وجہ کیا ؟ رپورٹ میں اہم حقائق سامنے آگئے

ایک اور نوجوان نے بتایا اس کا بھائی ڈر کی وجہ سے باہر نہیں نکل سکا، دکان کے اندر بیٹھا رہا لیکن صبح سے اس سے کوئی رابطہ نہیں ہو پا رہا۔

متاثرہ خاندان کی ایک خاتون نے بھی مدد کی اپیل کرتے ہوئے کہا  “میرے شوہر اور دو بچے اندر ہیں، خدا کے لیے کسی طرح انہیں بچا لیں ۔۔۔۔!

گل پلازہ میں ہی لاپتا افراد کی فیملی نے بتایا کہ ان کے گھر میں شادی تھی اور ان میں دلہن، ان کی والدہ، ایک بہن بھائی اور والدہ شامل ہیں ،  یہ سب نمرہ کی عید کے بعد شادی کی شاپنگ کے لیے آئے تھے،  آخری کال میں بتایا گیا کہ خریداری مکمل ہو گئی ہے اور 15 منٹ میں گھر کے لیے نکل رہے ہیں۔

اس سانحے نے کئی والدین سے ان کے بڑھاپے کا سہارا ، بچوں اور خواتین سے ان کا محافظ چھین لیا ، جہاں کل تک شادی کی تیاریوں اور خوشیوں کی گونج تھی آج وہاں سناٹا ، آہیں اور آنسو ہیں ، پیاروں کی خوشیاں منانے والے گھر ماتم کدہ میں تبدیل ہوگئے اور کئی گھرانے اب بھی ٹوٹی پھوٹی امیدوں کے ساتھ اپنے پیاروں کی واپسی کی آس لیے دربدر بھٹک رہے ہیں اور ہر آواز، ہر خبر میں اپنے کسی اپنے کی جھلک تلاش کر رہے ہیں۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *