گل پلازہ سانحہ وزیراعلیٰ سندھ کا جاں بحق افراد کے ورثا کے لیے بڑی رقم کا اعلان

گل پلازہ سانحہ وزیراعلیٰ سندھ کا جاں بحق افراد کے ورثا کے لیے بڑی رقم کا اعلان

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے گل پلازہ میں پیش آنے والے افسوسناک سانحے میں جاں بحق افراد کے ورثا کو ایک کروڑ روپے فی کس مالی امداد دینے کا اعلان کر دیا ہے، وزیراعلیٰ کے مطابق امدادی رقوم کی فراہمی کل سے شروع کر دی جائے گی اور کاغذات مکمل ہوتے ہی متاثرہ خاندانوں کو رقوم ادا کی جائیں گی۔

سانحے میں 15 افراد جاں بحق، 65 تاحال لاپتہ

نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ گل پلازہ سے اب تک 15 لاشیں نکالی جا چکی ہیں، جبکہ 22 افراد کو معمولی زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا تھا جو ابتدائی طبی امداد کے بعد گھروں کو جا چکے ہیں، تاہم 65 افراد تاحال لاپتہ ہیں، مجموعی طور پر اس سانحے میں 80 افراد متاثر ہوئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:گل پلازہ سانحہ کی اصل وجہ کیا ؟ رپورٹ میں اہم حقائق سامنے آگئے

آگ لگنے کی حتمی وجہ معلوم نہ ہو سکی

مراد علی شاہ نے کہا کہ دو دن قبل گل پلازہ میں افسوسناک واقعہ پیش آیا، گل پلازہ ایسی جگہ ہے جہاں شہر کے بیشتر لوگ کبھی نہ کبھی جا چکے ہوں گے، سوا دس بجے کے قریب آگ بھڑکی، تاہم آگ لگنے کی حتمی وجہ ابھی معلوم نہیں ہو سکی، ابتدائی شواہد کے مطابق ممکنہ طور پر شارٹ سرکٹ آگ لگنے کا سبب بنا ہو۔

ریسکیو آپریشن میں مختلف اداروں کی شرکت

وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ ریسکیو آپریشن میں کے ایم سی کے 100 اور ریسکیو 1122 کے 100 فائر فائٹرز نے حصہ لیا، صوبائی وزیر سعید غنی، مئیر کراچی مرتضیٰ وہاب، ڈپٹی مئیر سلمان مراد اور وہ خود بھی موقع پر موجود رہے، پاک بحریہ اور سول ایوی ایشن اتھارٹی نے بھی امدادی کارروائیوں میں تعاون کیا۔

عمارت 40 فیصد منہدم، مکمل گرائے جانے کا امکان

انہوں نے بتایا کہ فائر فائٹرز نے تین مختلف مقامات سے عمارت میں داخل ہو کر ریسکیو آپریشن کیا، گل پلازہ کی عمارت تقریباً 40 فیصد منہدم ہو چکی ہے اور امکان ہے کہ حفاظتی خدشات کے پیش نظر پوری عمارت کو گرانا پڑے، انہوں نے کہا کہ ہم سب اس سانحے پر غمگین ہیں اور متاثرہ خاندانوں کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں۔

مزید پڑھیں:گل پلازہ میں لگی آگ 19گھنٹے بعد بھی بے قابو،لوگ اپنےپیاروں کے منتظر، پولیس نے ہیلپ لائن قائم کردی

فائر فائٹر فرقان کی شہادت، وزیراعلیٰ کا خراج عقیدت

مراد علی شاہ نے بتایا کہ اس حادثے میں فائر فائٹر فرقان شہید ہوئے، ان کے والد بھی فائر فائٹر تھے اور وہ بھی شہادت پا چکے ہیں، وزیراعلیٰ نے شہید فائر فائٹر کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایسے بہادر جوانوں کی قربانیاں کبھی فراموش نہیں کی جا سکتیں۔

لاپتہ افراد کی تلاش اولین ترجیح

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ آج صبح ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد کیا گیا جس میں کراچی چیمبر آف کامرس سے بھی مشاورت کی گئی، فوری کوشش ہے کہ لاپتہ افراد کا سراغ لگایا جائے، جاں بحق افراد کے لواحقین کو ایک کروڑ روپے فی کس مالی امداد دی جائے گی اور یہ سلسلہ کل سے شروع ہو جائے گا۔

کراچی کی عمارتوں میں سیفٹی مسائل کا اعتراف

مراد علی شاہ نے اعتراف کیا کہ یہ حقیقت ہے کہ کراچی کی کئی عمارتوں میں سیفٹی کے سنگین مسائل موجود ہیں، ان مسائل سے نمٹنے کے لیے فوری اور وسط مدتی اقدامات کیے جا رہے ہیں، متاثرہ خاندانوں کے دکھ میں شریک ہونے کے لیے کابینہ کے اراکین ہر جاں بحق شخص کے گھر جائیں گے۔

سانحے کی انکوائری، جوڈیشل کمیشن کا امکان

انہوں نے کہا کہ ہر سانحے کے پیچھے وجوہات ہوتی ہیں جو انکوائری کے بعد سامنے آتی ہیں، گل پلازہ سانحے کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی اور اگر ضرورت پڑی تو جوڈیشل انکوائری بھی کرائی جائے گی، ماضی میں ایسے واقعات کے ذمہ داروں کو سزائیں بھی دی گئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:سانحہ گل پلازہ افسوسناک،مکمل انکوائری کر کے نقصان کا ازالہ کرینگے ، وزیر اعلیٰ سندھ

ذمہ داری صرف حکومت کی نہیں، سب کو اپنا احتساب کرنا ہو گا

وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ کئی مواقع پر غلطی صرف حکومت کی نہیں ہوتی بلکہ دکانداروں اور دیگر فریقین کی بھی ذمہ داریاں ہوتی ہیں، اس وقت دکاندار خود شدید تکلیف میں ہیں، انہیں مورد الزام نہیں ٹھہرانا چاہتے، حکومت کی غلطیاں ہیں، اس کا اعتراف کرتا ہوں لیکن سب کو اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے۔

انتشار سے گریز کی اپیل

مراد علی شاہ نے کہا کہ جو ادارے خود کو احتساب سے بالاتر سمجھتے ہیں، انہیں بھی اپنا محاسبہ کرنا چاہیے، موجودہ صورتحال کا تقاضہ ہے کہ انتشار پھیلانے سے گریز کیا جائے، میں کسی ادارے یا فرد کا نام نہیں لوں گا، بس یہی کہوں گا کہ میری بھی غلطی ہے، دنیا بھر میں ایسے واقعات ہوتے ہیں، ہمیں اپنی بہتری کے لیے سنجیدہ اقدامات کرنا ہوں گے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *