پاکستان نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے معاملے پر بنگلا دیش کے مؤقف کی کھل کر حمایت کرتے ہوئے قومی ٹیم سے متعلق تمام تیاریوں کو عارضی طور پر روکنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
نجی ٹی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین محسن نقوی نے واضح ہدایات جاری کی ہیں کہ موجودہ صورتحال میں ورلڈ کپ کے لیے کسی بھی قسم کی عملی تیاری کو فی الحال معطل رکھا جائے، جب تک علاقائی اورسکیورٹی سے متعلق معاملات پر مزید وضاحت سامنے نہیں آتی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پی سی بی کی جانب سے ٹیم مینجمنٹ کو اس فیصلے سے آگاہ کر دیا گیا ہے،تاہم آئندہ کے لائحہ عمل کے بارے میں بعد میں باضابطہ طور پر مطلع کیا جائے گا،اس کے ساتھ ہی ٹیم مینجمنٹ سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر پاکستان کی جانب سے ورلڈ کپ میں عدم شرکت کا فیصلہ کرنا پڑے تو اس صورت میں ایک متوازی یا متبادل پلان بھی تیار رکھا جائے تاکہ کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹا جا سکے۔
اہم بات یہ ہے کہ پاکستان نے بنگلا دیش کے اس فیصلے کی مکمل حمایت کی ہے جس کے تحت بنگلا دیش نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کھیلنے کے لیے بھارت نہ جانے کے حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے،پاکستان کا مؤقف ہے کہ بنگلا دیش کے سکیورٹی خدشات معقول اور قابلِ فہم ہیں اور کسی بھی ٹیم کو اپنی سلامتی کے حوالے سے فیصلے کرنے کا پورا حق حاصل ہے پاکستان نے واضح کیا ہے کہ کھلاڑیوں کی جان و مال کا تحفظ کسی بھی ٹورنامنٹ سے زیادہ اہم ہے۔
ذرائع کے مطابق ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے معاملے پر بنگلا دیش نے باقاعدہ طور پر پاکستان سے رابطہ بھی کیا ہے،جس میں موجودہ صورتحال اور ممکنہ آپشنز پر تبادلہ خیال کیا گیا،پاکستان نے یہ عندیہ دیا ہے کہ اگر بنگلا دیش کا معاملہ طے نہ پایا اور سکیورٹی خدشات دور نہ ہوئے تو پاکستان بھی ورلڈ کپ میں شرکت کے اپنے فیصلے پر نظرثانی کر سکتا ہے۔
کرکٹ حلقوں میں اس پیش رفت کو نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے نہ صرف ورلڈ کپ کے شیڈول بلکہ ٹورنامنٹ کی مجموعی ساکھ پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔ماہرین کے مطابق اگر ایک سے زیادہ ٹیمیں سکیورٹی بنیادوں پرتحفظات کا اظہار کرتی ہیں تو انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) پر دباؤ بڑھے گا کہ وہ متبادل انتظامات یا مقام کی تبدیلی پر غور کرے۔
موجودہ صورتحال میں شائقین کرکٹ کی نظریں آئندہ چند دنوں پر مرکوز ہیں جب یہ واضح ہو گا کہ پاکستان اور بنگلا دیش اپنے حتمی فیصلے کس سمت میں لے جاتے ہیں اور آیا ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ اپنی موجودہ منصوبہ بندی کے مطابق منعقد ہو پاتا ہے یا نہیں۔