معروف صحافی رضوان رضی نے دعویٰ کیا ہے کہ بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان اڈیالہ جیل میں شدید ذہنی دباؤ اور بے چینی کا شکار ہیں اور موجودہ صورتحال پر وہ بعض قریبی شخصیات سے سخت نالاں بھی دکھائی دیتے ہیں۔
رضوان رضی کے مطابق عمران خان نے سہیل آفریدی کے کردار پر شدید مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے اپنی ہمشیرہ علیمہ خانم کو واضح پیغام دیا ہے کہ سہیل آفریدی نے انہیں بہت مایوس کیا ہے اور وہ ان کی کارکردگی اور رویے سے خوش نہیں ہیں۔
رضوان رضی کا کہنا ہے کہ عمران خان نے علیمہ خانم سے گفتگو کے دوران اس ناراضی کا کھل کر اظہار کیا اور کہا کہ جن لوگوں پر اعتماد کیا گیا تھا وہ توقعات پر پورا نہیں اتر سکے۔ یہ پیغام پارٹی کے اندرونی معاملات اور حالیہ سیاسی صورتحال کے تناظر میں نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
رضوان رضی کے مطابق عمران خان اس وقت اڈیالہ جیل میں اتنے بے چین ہو چکے ہیں کہ انہوں نے اپنی رہائش کے حوالے سے بھی غیر معمولی خواہشات کا اظہار کیا ہے۔
رضوان رضی کا دعویٰ ہے کہ عمران خان نے کہا ہے کہ اگر انہیں رہا نہیں بھی کیا جاتا تو کم از کم انہیں بنی گالہ منتقل کر دیا جائے۔ ان کے مطابق عمران خان نے یہ تجویز بھی دی ہے کہ اگر دونوں میاں بیوی کو ایک ساتھ بنی گالہ منتقل کرنا ممکن نہیں تو ایک کو بنی گالہ اور دوسرے کو زمان پارک منتقل کر دیا جائے۔
رضوان رضی کے مطابق عمران خان کا ماننا ہے کہ بنی گالہ یا زمان پارک میں منتقلی سے نہ صرف ان کی ذہنی کیفیت میں بہتری آئے گی بلکہ وہ سیاسی اور قانونی معاملات پر بہتر انداز میں توجہ بھی دے سکیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ عمران خان جیل کی موجودہ فضا اور طویل تنہائی سے سخت نالاں ہیں اور اسے اپنی صحت اور ذہنی سکون کے لیے نقصان دہ سمجھتے ہیں۔
ان انکشافات کے بعد سیاسی حلقوں میں چہ مگوئیاں تیز ہو گئی ہیں اور یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا عمران خان کی رہائش سے متعلق ایسی کوئی درخواست عملی شکل اختیار کر پائے گی یا نہیں۔ تاہم اب تک سرکاری سطح پر اس حوالے سے کوئی باضابطہ تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق رضوان رضی کے یہ انکشافات نہ صرف پی ٹی آئی کی اندرونی صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں بلکہ یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ عمران خان موجودہ حالات میں شدید دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں اور اپنے قریبی حلقے سے غیر معمولی توقعات وابستہ کیے ہوئے ہیں۔