وزیراعلیٰ پنجاب کے مشیر برائے سیاسی امور ذیشان ملک نے کہا ہے کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں کا گراف جس تیزی سے 78 ڈالر سے بڑھ کر 106 ڈالر فی بیرل تک پہنچا ہے، ایسے میں اس کے اثرات سے مقامی معیشت کا بچنا ناممکن ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ بین الاقوامی سطح پر ہونے والی یہ تبدیلیاں براہ راست ہماری زندگیوں پر اثر انداز ہوتی ہیں۔
ذیشان ملک کا کہنا تھا کہ ان حالات میں سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ جب بھی ایسی کوئی عالمی لہر آتی ہے تو معاشرے میں موجود کچھ عناصر اسے ناجائز منافع کمانے کا سنہری موقع بنا لیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ذخیرہ اندوزی کے ذریعے مصنوعی قلت پیدا کرنا اور مجبوری کا فائدہ اٹھا کر قیمتیں بڑھانا ایک سنگین اخلاقی جرم ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس بحران میں جہاں عالمی قیمتیں ایک چیلنج ہیں، وہیں ان اندرونی بدعنوانیوں کا خاتمہ بھی نہایت ضروری ہے تاکہ عام آدمی کی مشکلات میں مزید اضافہ نہ ہو۔