سینئر سیاستدان مشاہد حسین سید نے کہا ہے کہ غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت صرف پاکستان تک محدود نہیں بلکہ آٹھ مسلم ممالک نے اجتماعی طور پر اس فورم کا حصہ بننے کا فیصلہ کیا ہے۔
جیو نیوز کے پروگرام “کیپیٹل ٹاک” میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس فیصلے کو محض پاکستان کی انفرادی سفارتی سرگرمی کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے بلکہ یہ مسلم دنیا کی مشترکہ کاوش ہے۔
مشاہد حسین سید نے وضاحت کی کہ غزہ بورڈ آف پیس اقوامِ متحدہ کا متوازی یا متبادل ڈھانچہ نہیں ہے۔ ان کے مطابق اس فورم کا دائرۂ کار صرف غزہ تک محدود نہیں بلکہ اس کے ذریعے دیگر بین الاقوامی تنازعات کے حل سے متعلق معاملات بھی زیرِ بحث لائے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اسی پلیٹ فارم کے ذریعے پاکستان فلسطینی عوام کے حق میں مؤثر آواز اٹھا سکتا ہے اور عالمی سطح پر ان کے مسائل کو اجاگر کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ فورم پاکستان کو کشمیر کے معاملے پر بھی اپنا مؤقف مضبوط انداز میں پیش کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے، جہاں کشمیری عوام کے حقوق کے لیے آواز بلند کی جا سکتی ہے۔
مشاہد حسین سید کے مطابق غزہ بورڈ آف پیس پاکستان کو یہ صلاحیت بھی فراہم کرتا ہے کہ وہ ایران کے خلاف جاری جارحیت پر ماضی کی طرح اب بھی اپنی مخالفت کا اظہار کرے اور اپنے اصولی مؤقف کو عالمی برادری کے سامنے رکھے۔
انہوں نے کہا کہ آٹھ مسلم ممالک کی اجتماعی شمولیت اس بات کی عکاس ہے کہ یہ فورم مسلم دنیا کے لیے سفارتی سطح پر ایک اہم موقع فراہم کرتا ہے، جہاں مشترکہ مسائل پر مشترکہ مؤقف اختیار کیا جا سکتا ہے اور بین الاقوامی تنازعات کے حل کے لیے آواز بلند کی جا سکتی ہے۔