وزیراعظم پاکستان میاں شہباز شریف کی جانب سے سندھ کی گورنر شپ کے لیے نامزد کیے جانے والے سید نہال ہاشمی ملکی سیاست کے ایک منجھے ہوئے اور تجربہ کار رہنما سمجھے جاتے ہیں جنہوں نے وکالت اور سیاست دونوں میدانوں میں طویل عرصہ خدمات انجام دی ہیں۔
سید نہال ہاشمی پیشے کے اعتبار سے وکیل ہیں اور کئی دہائیوں سے سیاسی سرگرمیوں میں متحرک رہے ہیں۔ وہ مارچ 2015 سے فروری 2018 تک ایوان بالا کے رکن رہے اور اس دوران پارلیمانی امور میں بھرپور کردار ادا کرتے رہے۔
ان کی سیاسی وابستگی مسلم لیگ ن سے ہے اور وہ پارٹی کے اہم رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں۔ نہال ہاشمی نے اپنے سیاسی سفر کے دوران مختلف اہم ذمہ داریاں نبھائیں اور پارٹی تنظیم سازی میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔
سید نہال ہاشمی اس سے قبل 1997 سے 1999 تک اس وقت کے وزیراعظم پاکستان محمد نواز شریف کے مشیر برائے قانون، انصاف اور انسانی حقوق کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ اس عہدے پر رہتے ہوئے انہوں نے قانونی اور آئینی امور میں حکومت کو مشاورت فراہم کی۔
سیاسی میدان میں ان کی سرگرمیاں خاص طور پر کراچی اور سندھ کی سیاست میں نمایاں رہی ہیں۔ 2012 کے دوران وہ کراچی میں مسلم لیگ ن کے صدر کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے۔ اس دوران انہوں نے شہر میں پارٹی کو فعال بنانے اور تنظیمی ڈھانچے کو مضبوط کرنے کے لیے مختلف اقدامات کیے۔
اگست 2014 میں انہیں مسلم لیگ ن سندھ کا جنرل سیکرٹری مقرر کیا گیا جبکہ اسی سال اکتوبر 2014 میں ایک مرتبہ پھر انہیں اسی عہدے پر ذمہ داریاں سونپی گئیں۔ اس دوران انہوں نے سندھ بھر میں پارٹی کو منظم کرنے اور سیاسی رابطوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔
2015 میں ہونے والے سینیٹ انتخابات میں سید نہال ہاشمی مسلم لیگ ن کے امیدوار کے طور پر پنجاب سے جنرل نشست پر منتخب ہوئے اور سینیٹ آف پاکستان کے رکن بنے۔ ایوان بالا میں انہوں نے مختلف پارلیمانی معاملات اور سیاسی مباحث میں بھرپور شرکت کی۔
جون 2017 میں ایک اہم سیاسی پیش رفت کے دوران انہوں نے سینیٹ کے چیئرمین سے ملاقات کے بعد اپنا استعفیٰ واپس لے لیا تھا جس کے بعد وہ اپنی مدت مکمل ہونے تک سینیٹ کے رکن رہے۔
بعد ازاں 1 فروری 2018 کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے توہین عدالت کیس میں انہیں سزا سنائی۔ عدالت نے انہیں 1 ماہ قید کی سزا دی اور اگلے 5 سال تک کسی بھی عوامی عہدے کے لیے نااہل قرار دیا۔
واضح رہے کہ اس فیصلے کے بعد ان کی سیاسی سرگرمیاں کچھ عرصے کے لیے محدود ہو گئیں تاہم وقت گزرنے کے ساتھ وہ دوبارہ سیاسی میدان میں متحرک ہو گئے۔
اب وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے انہیں سندھ کی گورنر شپ کے لیے نامزد کیے جانے کے بعد ایک بار پھر ان کا نام ملکی سیاست میں نمایاں ہو گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر صدر مملکت کی منظوری کے بعد وہ گورنر سندھ کے عہدے پر فائز ہوتے ہیں تو یہ ان کی سیاسی زندگی کا ایک اہم مرحلہ ہوگا۔
سیاسی حلقوں کے مطابق نہال ہاشمی کا طویل تجربہ اور قانونی پس منظر صوبے میں وفاق کی نمائندگی کے لیے اہم ثابت ہو سکتا ہے جبکہ ان کی تقرری سے سندھ کی سیاست میں بھی نئی بحث شروع ہونے کا امکان ہے۔