امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کی صورتحال پر ایران کو 48 گھنٹے کا الٹی میٹم دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر اہم گزرگاہ کو فوری طور پر نہ کھولا گیا تو امریکا اس کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔
تفصیلات کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ ٹروتھ سوشل پر کہا کہ آبنائے ہرمز عالمی تجارت کے لیے نہایت اہم ہے اور اس کی بندش کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔
ٹرمپ نے دھمکی دی کہ اگر ایران نے مطالبات نہ مانے تو سب سے پہلے ایران کے بڑے پاور پلانٹ کو نشانہ بنایا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے امریکی اخبار میں شائع ہونے والی رپورٹ پر ردعمل دیتے ہوئے یہ بھی دعویٰ کیا کہ امریکا ایران کو نقشے سے مٹا چکا ہے، انہوں نے اپنے سوشل اکاؤنٹ پر لکھا کہ امریکا ایران میں اپنے اہداف کئی ہفتے پہلے ہی حاصل کر چکا ہے اور ایرانی قیادت ختم ہو چکی ہے جبکہ ایران کی بحریہ اور فضائیہ بھی تباہ ہو چکی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس اب دفاع کے لیے کچھ باقی نہیں بچا اور وہ معاہدہ کرنا چاہتا ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ وہ اس وقت کسی معاہدے کے خواہاں نہیں۔
اس سے قبل ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ مشرق وسطیٰ میں فوجی کارروائیوں کو ختم کرنے پر غور کر رہے ہیں، جو ممالک آبنائے ہرمز استعمال کرتے ہیں اس کی حفاظت وہ خود کر لیں۔
ایران کا ردعمل
دوسری جانب امریکی صدر کی دھمکیوں کے جواب میں ایران کا ردعمل بھی سامنے آگیا ہے ، ایران نے واضح کہا ہے کہ اگر ٹرمپ نے ایسا کیا تو مشرق وسطیٰ میں امریکا کے توانائی انفرااسٹرکچر کو نشانہ بنایا جائے گا۔
ایران کی جانب سے کہا گیا کہ اگر ٹرمپ نے ایران کے بجلی گھر کو نقصان پہنچایا تو ہم مشرق وسطیٰ میں امریکا کی تنصیبات پر حملے کریں گے۔
اس سے قبل ایران کی جانب سے اسرائیلی شہر دیمونا اور عراد میں میزائل برسا دیے گئے ، حملوں میں 6 افراد ہلاک اور 150 سے زائد زخمی ہوگئے، میزائل حملے میں کم از کم 20 عمارتوں کو نقصان بھی پہنچا ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو جنوبی اسرائیلی شہر دیمونا اور عراد میں ایران کے جوابی حملوں سے شدید پریشان ہوگئے ہیں، سوشل میڈیا بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ یہ اسرائیل کے لیے ایک انتہائی مشکل شام ہے۔
واضح رہے کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد جنگ ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے جہاں واشنگٹن صورتحال پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے میں ناکام دکھائی دے رہا ہے، جس سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے راستے محدود ہو گئے ہیں۔
ایران نے جوابی کارروائی میں خلیجی ممالک، بحری جہازوں اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا جبکہ آبنائے ہرمز میں کشیدگی بڑھا کر عالمی تیل کی سپلائی کو خطرے میں ڈال دیا، دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل کی تجارت اسی راستے سے گزرتی ہے جس کے باعث عالمی سطح پر تیل اور ایندھن کی قیمتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔