پنجاب میں ٹریفک قوانین کے حوالے سے ایک اہم اور دور رس اثرات رکھنے والا فیصلہ سامنے آ یاہے، نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب اسمبلی کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے داخلہ نے موٹر وہیکلز ترمیمی بل 2026 کی منظوری دے دی ہے ۔
اس بل کے تحت کم عمر افراد کے لیے موٹر سائیکل چلانے کے حوالے سے باقاعدہ قانونی فریم ورک متعارف کرایا جا رہا ہے اس فیصلے کو صوبے میں بغیر لائسنس ڈرائیونگ کے بڑھتے ہوئے رجحان کو کنٹرول کرنے کی ایک سنجیدہ کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
ترمیمی بل کے مطابق حکومت پنجاب نے جووینائل ڈرائیونگ پرمٹ متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت 16 سے 18 سال کی عمر کے موٹر سائیکل سواروں کو مخصوص شرائط کے ساتھ ڈرائیونگ کی اجازت دی جائے گی۔
اس مقصد کے لیے ایک واضح اور منظم قانونی ڈھانچہ تشکیل دینے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ کم عمر ڈرائیورز کو قانون کے دائرے میں لایا جا سکے۔
بل میں واضح کیا گیا ہے کہ جووینائل ڈرائیونگ پرمٹ لائسنسنگ اتھارٹی کے ذریعے جاری کیا جائے گا جبکہ موٹر سائیکل چلانے کے لیے مخصوص قواعد، تربیت اور نگرانی لازم ہوگی۔
اس نظام کے تحت کم عمر سواروں کو بغیر کسی قانونی دستاویز کے سڑکوں پر آنے کے بجائے باقاعدہ اجازت نامے کے ساتھ ڈرائیونگ کا موقع ملے گا۔
حکومت پنجاب کا مؤقف ہے کہ اس قانون سازی کا بنیادی مقصد سڑکوں پر غیر قانونی اور غیر محفوظ ڈرائیونگ کے رجحان کو کم کرنا ہے۔
حکام کے مطابق کم عمر افراد بڑی تعداد میں بغیر لائسنس موٹر سائیکل چلا رہے ہیں، جس کے باعث ٹریفک حادثات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ نئے قانون کے ذریعے نہ صرف روڈ سیفٹی کو بہتر بنایا جائے گا بلکہ حادثات کی شرح میں بھی کمی لانے میں مدد ملے گی۔
بل کے متن میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ جووینائل ڈرائیونگ کی اجازت کسی صورت کھلی چھوٹ نہیں ہوگی بلکہ اس پر سخت شرائط، نگرانی اور ذمہ داری کا نظام لاگو کیا جائے گا تاکہ سڑکوں پر محفوظ ٹریفک کلچر کو فروغ دیا جا سکے۔