خبردار: برفباری دیکھنے کےلئے مری جانے کے خواہشمند سیاحوں کے لئے اہم خبر

خبردار: برفباری دیکھنے کےلئے مری جانے کے خواہشمند سیاحوں کے لئے اہم خبر

مری میں وقفے وقفے سے جاری برفباری کے باعث ضلعی انتظامیہ نے سڑکوں کی حفاظت، ہجوم کے انتظام اور بنیادی سہولیات میں ممکنہ خلل کے پیشِ نظر سیاحوں کے لیے بغیر پیشگی ہوٹل بکنگ داخلے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق یہ اقدام عوامی تحفظ اور ٹریفک کے مسائل سے بچاؤ کے لیے کیا گیا ہے۔

مقامی ذرائع کے مطابق گزشتہ رات سے مری اور اس کے گردونواح میں برفباری کا سلسلہ جاری ہے، جس کے نتیجے میں پہاڑ، درخت، جنگلات، سڑکیں، عمارتیں اور گاڑیاں برف کی موٹی تہہ سے ڈھک گئی ہیں۔ تازہ برفباری کے باعث علاقے میں درجہ حرارت میں بھی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ مری کے بعض علاقوں میں برف کی موٹائی تقریباً 8 انچ تک پہنچ چکی ہے، جبکہ قریبی گلیات میں 1 سے ڈیڑھ فٹ تک برف پڑ چکی ہے۔ ان حالات کے باعث علاقے میں سفر کے دوران احتیاطی تدابیر مزید سخت کر دی گئی ہیں۔

خوبصورت مناظر کے ساتھ ساتھ برفباری نے روزمرہ معمولات کو متاثر بھی کیا ہے۔ مری کے مختلف علاقوں میں بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی ہے جبکہ پھسلن کے باعث کئی مقامات پر ٹریفک کی روانی بھی متاثر رہی۔ سڑکوں پر پھسلن کے خطرے کے پیش نظر حادثات سے بچنے کے لیے خصوصی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: تحریک انصاف سوشل میڈیا کے سربراہ جبران الیاس امریکی سیکریٹ سروس کاایجنٹ ہے ، ڈاکٹر فرحان ورک کا تہلکہ خیز انکشاف

ہائی وے ڈیپارٹمنٹ اور ضلعی انتظامیہ کے مطابق مرکزی شاہراہوں اور رابطہ سڑکوں پر برف ہٹانے کا کام جاری ہے، جبکہ پھسلن کم کرنے کے لیے نمک کا چھڑکاؤ بھی کیا جا رہا ہے۔ پولیس اور دیگر متعلقہ محکموں کو الرٹ کر دیا گیا ہے تاکہ ٹریفک کو منظم رکھا جا سکے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری کارروائی ممکن ہو۔

انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ ہدایات کے مطابق مری میں صرف وہی سیاح داخل ہو سکیں گے جن کے پاس ہوٹل کی تصدیق شدہ بکنگ موجود ہو گی، جبکہ مقامی رہائشیوں کو آمد و رفت کی اجازت دی گئی ہے۔ شہریوں اور سیاحوں کو غیر ضروری سفر سے گریز، سنو چینز کے استعمال، گرم کپڑے پہننے اور ضروری اشیاء ساتھ رکھنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ چند گھنٹوں کے دوران مری اور گردونواح میں برفباری کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *