ایمازون میں مزید چھانٹیاں، 16 ہزار ملازمین فارغ کرنے کی وجوہات سامنے آگئیں

ایمازون میں مزید چھانٹیاں، 16 ہزار ملازمین فارغ کرنے کی وجوہات سامنے آگئیں

دنیا کی بڑی ٹیکنالوجی اور ای۔کامرس کمپنی ایمازون نے اخراجات میں کمی اور انتظامی ڈھانچے کی تنظیمِ نو کے تحت ایک مرتبہ پھر بڑے پیمانے پر ملازمین کو فارغ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ تازہ اطلاعات کے مطابق کمپنی آئندہ مرحلے میں تقریباً 16 ہزار کارپوریٹ ملازمین کی ملازمتیں ختم کرنے جا رہی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ اقدام اس سے قبل اکتوبر میں کی جانے والی 14 ہزار ملازمتوں کے خاتمے کے بعد سامنے آیا ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ ایمازون میں افرادی قوت میں کمی کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔ نئی چھانٹیاں گزشتہ تین ماہ کے دوران دوسری بڑی لہر قرار دی جا رہی ہیں۔

ایمازون کی سینئر نائب صدر بیتھ گیلیٹی نے ایک بلاگ پوسٹ میں بتایا کہ کمپنی اپنے تنظیمی نظام کو زیادہ مؤثر اور سادہ بنانے پر توجہ دے رہی ہے۔ ان کے مطابق غیر ضروری انتظامی سطحیں ختم کی جا رہی ہیں، ذمہ داریوں کا دائرہ وسیع کیا جا رہا ہے اور بیوروکریسی میں کمی لانے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:ایمازون کا پاکستان میں سیٹلائٹ براڈ بینڈ سروس شروع کرنیکا اعلان

کمپنی نے اس مرحلے پر یہ وضاحت نہیں کی کہ کن شعبوں یا کن ممالک میں ملازمین کو نکالا جائے گا۔ کینیڈین میڈیا کے مطابق، ایمازون کے ترجمان نے یہ بھی نہیں بتایا کہ آیا کینیڈا میں کام کرنے والے ملازمین اس فیصلے سے متاثر ہوں گے یا نہیں۔

بیتھ گیلیٹی کا کہنا ہے کہ کچھ شعبوں میں تنظیمی تبدیلیاں پہلے ہی مکمل کی جا چکی تھیں، تاہم بعض یونٹس میں یہ عمل اب جا کر اختتام کو پہنچ رہا ہے، جس کے نتیجے میں مزید ملازمتیں ختم کی جا رہی ہیں۔

ایمازون نے امریکا میں کام کرنے والے متاثرہ ملازمین کو کمپنی کے اندر متبادل ملازمت تلاش کرنے کے لیے 90 دن کی مہلت دینے کا اعلان کیا ہے۔ جو ملازمین نئی ذمہ داریاں سنبھالنے سے قاصر ہوں گے یا ایسا نہیں چاہیں گے، انہیں علیحدگی پیکیج، کیریئر سے متعلق معاونت اور محدود مدت کے لیے ہیلتھ انشورنس کی سہولت فراہم کی جائے گی۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *