بلومبرگ کے مطابق اسرائیلی فوج نے تصدیق کی ہے کہ ایران کے نصب کردہ میزائلوں میں کلسٹر وار ہیڈ استعمال ہو رہے ہیں، جو ہدف پر متعدد چھوٹے بم بکھیرتے ہیں جس سے نقصان کا دائرہ بڑھ جاتا ہے۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ایرانی میزائلوں سے درجنوں چھوٹے دھماکا خیز مواد پھیل رہے ہیں اور تقریباً آدھے میزائل کلسٹر بموں سے لیس ہیں۔
اسرائیلی فوج کے مطابق کلسٹر وار ہیڈ والے میزائل وسیع علاقے کو نشانہ بنا رہے ہیں اور ان سے زیادہ جانی نقصان کا خدشہ موجود ہے کیونکہ چھوٹے بم زمین پر گرنے کے بعد بھی دھماکہ کر سکتے ہیں۔
فوج نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ میزائل حملے کے سائرن ختم ہونے کے بعد بھی چند منٹ تک پناہ گاہوں میں رہیں تاکہ کسی ممکنہ اضافی دھماکے سے بچا جا سکے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران اس حکمتِ عملی کے ذریعے نہ صرف اسرائیلی دفاعی نظام کو چکمہ دینا چاہتا ہے بلکہ مہنگے میزائل انٹرسیپٹرز کو زیادہ استعمال کروانے کی کوشش بھی کر رہا ہے، جس سے اسرائیل پر معاشی اور نفسیاتی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
اسرائیلی فوج نے بتایا کہ کلسٹر بم وسیع علاقے کو نشانہ بنانے کی وجہ سے شہری علاقوں اور فوجی اہداف دونوں کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ایران کے یہ میزائل نہ صرف محدود ہدف بلکہ بڑے جغرافیائی علاقے میں تباہی پھیلانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
ماہرین نے مزید کہا کہ کلسٹر وار ہیڈ والے میزائل کی حکمتِ عملی اسرائیل کے دفاعی نظام کے لیے ایک چیلنج ہے کیونکہ ان بموں کو پکڑنا اور ہر چھوٹے دھماکے کا فوری جواب دینا مشکل ہے، اس کے علاوہ اس حکمتِ عملی کے تحت اسرائیل کو اپنے دفاعی وسائل زیادہ استعمال کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے، جس سے فوجی اور اقتصادی دباؤ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
بلومبرگ کے مطابق اسرائیلی فوج نے شہریوں کو مزید محتاط رہنے کی ہدایت جاری کی ہے اور دفاعی حکام کلسٹر بموں سے ہونے والے نقصان کو کم کرنے کے لیے اضافی اقدامات کر رہے ہیں۔