اہم سیاسی پیش رفت ، وزیر اعظم سےاپوزیشن کےبڑے رہنما کی ملاقات طے

اہم سیاسی پیش رفت ، وزیر اعظم سےاپوزیشن کےبڑے رہنما کی ملاقات طے

وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثناء اللّٰہ نے کہا ہے کہ فیئر الیکشن کے ضابطے سیاستدانوں نے مذاکرات کی میز پر طے کرنے ہیں اور اس حوالے وزیر اعظم شہباز شریف کی اہم اپوزیشن رہنما سے ملاقات طے ہوئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کے دوران رانا ثناء اللّٰہ نے کہا کہ یہ طے ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف اور اپوزیشن لیڈر محمود اچکزئی کی ملاقات ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کی ملاقات کس دن اور جگہ پر ہوگی؟ یہ ابھی طے نہیں ہوا، محمود اچکزئی تشریف لانا چاہتے ہیں تو ان کو ویلکم کرتے ہیں۔ سینیٹر رانا ثناء اللّٰہ نے مزید کہا کہ جس دن وزیراعظم شہباز شریف ایوان میں آئے اور محمود اچکزئی بھی موجود ہوئے تو ان کے ساتھ ملاقات ہوجائے گی۔

اُن کا کہنا تھا کہ اگر 8 فروری سے پہلے ملاقات کرنے میں اپوزیشن لیڈر کی پوزیشن خراب ہوتی ہے تو ان سے بعد میں مل لیں گے، بتایا جائے اعتماد نہ بھی ہو تو بات چیت کو آگے بڑھانے کے سوا اور کیا چارہ ہے؟

وزیراعظم کے سیاسی مشیر نے یہ بھی استفسار کیا کہ کون ہے جو اکتوبر 2011ء سے لے کر اب تک مذاکرات کے لیے تیار نہیں؟ انہوں نے کہا کہ جب تک مذاکرات کے لیے نہیں بیٹھیں گے الیکشن رولز کیسے بنائیں گے، اگر فیئر الیکشن کے لیے ضابطے طے کرنے ہیں تو وہ سیاستدانوں نے کرنے ہیں۔

رانا ثناء اللّٰہ نے کہا کہ یقین سے کہتا ہے وزیراعظم شہباز شریف نے مذاکرات کے لیے لازمی طور پر اتحادیوں، اپنے پارٹی لیڈر اور اسٹیبلشمنٹ کو آن بورڈ لیا ہوگا۔

مزید پڑھیں: سینیٹر رانا ثنا اللہ کے وادی تیراہ سے متعلق اہم انکشافات

انہوں نے واضح کیا کہ اس ملاقات کا 8 فروری کے کسی بھی احتجاج یا سرگرمی سے کوئی تعلق نہیں ہوگا اور نہ ہی اس حوالے سے بات چیت کی جائے گی رانا ثنا اللہ کے مطابق اگر 8 فروری سے پہلے ملاقات کرنے سے محمود اچکزئی کو سیاسی نقصان پہنچنے کا خدشہ ہوا تو ملاقات بعد میں بھی ہو سکتی ہے

ان کا کہنا تھا کہ باہمی اعتماد نہ بھی ہو تو بات چیت کے سوا کوئی راستہ نہیں رہتا انہوں نے یہ بھی کہا کہ وزیر اعظم نے مذاکرات کی پیشکش پر یقیناً اسٹیبلشمنٹ کو اعتماد میں لیا ہوگا۔

رانا ثنا اللہ نے سوال اٹھایا کہ اکتوبر 2011 سے لے کر آج تک کون ہے جو بیٹھنے کو تیار نہیں رہا اور اس بات پر زور دیا کہ ماضی کو ایک طرف رکھ کر حال اور مستقبل کی بہتری کے لیے بات کرنا ناگزیر ہے ان کے مطابق 9 مئی اور 26 نومبر کے واقعات کے بعد اعتماد کے شدید بحران کو دور کرنا وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *