پاکستان نے ایمرجنگ ٹیکنالوجیز میں قومی صلاحیت کو فروغ دینے اور نئی نسل کے سائنسی موجدین کی تربیت کے مقصد کے لیے اپنی پہلی قومی سطح کی کوانٹم کمپیوٹنگ ہیکاتھون کا افتتاح کر کے ایک اہم تکنیکی سنگِ میل عبور کیا۔ یہ تقریب جمعہ کے روز نیشنل سینٹر فار فزکس (NCP) اسلام آباد میں منعقد ہوئی۔
تقریب میں چیئرمین پاکستان ایٹمی توانائی کمیشن (PAEC) ڈاکٹر راجہ علی رضا انور نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی اور ہیکاتھون کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ انہوں نے اسے جدید سائنس اور ٹیکنالوجی میں مستقبل کے قائدین کی صف میں پاکستان کی شمولیت کی جانب ایک تزویراتی قدم قرار دیا۔
شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر راجہ علی رضا انور نے کہا کہ کوانٹم سائنس اب صرف نظریاتی تحقیق تک محدود نہیں رہی بلکہ تیزی سے عملی ٹیکنالوجیز میں تبدیل ہو رہی ہے، جن کے استعمال سے قومی سلامتی، صحت، توانائی، مٹیریلز سائنس، مالیات اور ڈیٹا کے تحفظ سمیت مختلف شعبوں میں بہتری ممکن ہے۔
انہوں نے کہا کہ انسانی وسائل میں ابتدائی سرمایہ کاری آئندہ دہائیوں میں تکنیکی قیادت کا تعین کرے گی، جبکہ ہیکاتھون جیسی سرگرمیاں مضبوط قومی کوانٹم پیش رفت کے لیے ناگزیر ہیں۔
چیئرمین پی اے ای سی نے منتظم اداروں — نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف لیزرز اینڈ آپٹرونکس (NILOP)، پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف انجینئرنگ اینڈ اپلائیڈ سائنسز (PIEAS) اور نیشنل سینٹر فار فزکس (NCP) — کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے نوجوانوں، محققین اور رہنماؤں کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا۔
انہوں نے پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے دیرینہ سائنسی کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ کمیشن نے ایٹمی ٹیکنالوجی، مٹیریلز ریسرچ اور طبی استعمال سمیت جدید علوم میں قومی صلاحیت کی ترقی میں ہمیشہ مرکزی کردار ادا کیا ہے۔ ان کے مطابق یہ ہیکاتھون جدت اور تحقیق سے نمو پذیر پائیدار ترقی کے لیے پی اے ای سی کے عزم کی عکاس ہے۔
ڈاکٹر راجہ علی رضا انور نے زور دیا کہ تقریب میں شریک طلبہ اور نوجوان محققین پاکستان کی مستقبل کی سائنسی قیادت کی نمائندگی کرتے ہیں۔ انہوں نے فزکس، ریاضی اور کمپیوٹر سائنس کے ماہرین کے درمیان شعبہ جاتی تعاون کی حوصلہ افزائی کی تاکہ قومی ترجیحات سے ہم آہنگ عملی اقدامات کیے جا سکیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ ہیکاتھون کوئی الگ سرگرمی نہیں بلکہ جدت کے ایک طویل سفر کا آغاز ہے، جبکہ حقیقی ترقی جرات مندانہ سوالات اٹھانے، نئی راہیں تلاش کرنے اور معاشرے کے فائدے کے لیے اجتماعی طور پر حل تلاش کرنے سے حاصل ہوتی ہے۔
چیئرمین پی اے ای سی نے بتایا کہ ہیکاتھون کے لیے تیار کیے گئے چیلنجز حقیقی سماجی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہیں تاکہ ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز محض نظری کامیابیوں تک محدود نہ رہیں بلکہ جامع قومی ترقی میں کردار ادا کریں۔ انہوں نے سرپرستوں، ججز اور تکنیکی ماہرین کے کردار کو بھی سراہا جن کی رہنمائی جدید منصوبوں اور مستقبل کے سائنسی رہنماؤں کی تشکیل میں مدد دے گی۔
کوانٹم ٹیکنالوجیز کی اسٹریٹجک اہمیت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت اس شعبے کو قومی ترقی اور سلامتی کے لیے نہایت اہم سمجھتی ہے۔ ان کے مطابق ہیکاتھون سے سامنے آنے والے خیالات مستقبل کی تحقیق، تعلیمی اشتراک اور قومی اہمیت کے حامل تکنیکی حل کی صورت اختیار کر سکتے ہیں۔ فائنلسٹس کو مبارکباد دیتے ہوئے انہوں نے شرکاء کو دیانت داری، کھلے تعاون اور بہترین کارکردگی کے لیے کوشاں رہنے کی تلقین کی۔
اس سے قبل ممبر سائنس پاکستان اٹامک انرجی کمیشن ڈاکٹر شکیل عباس روفی نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے ہیکاتھون کے عملی اور تخلیقی پہلوؤں کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ کوانٹم کمپیوٹنگ اب محض ایک نظریاتی امکان نہیں رہی بلکہ یہ مستقبل قریب کا سوال ہے، اور آج کیے گئے اقدامات اگلی صدی کی ٹیکنالوجی کا خاکہ بن سکتے ہیں۔
ڈاکٹر شکیل عباس روفی نے شرکاء کو حقیقی دنیا کے مسائل کو کوانٹم ٹیکنالوجی کے ذریعے جدت کے مواقع کے طور پر دیکھنے کی ترغیب دی اور کہا کہ ہر کوشش انہیں کامیابی کے مزید قریب لے جاتی ہے۔ انہوں نے شرکاء پر زور دیا کہ وہ کوشش کرنے سے نہ گھبرائیں، چاہے راستہ مشکل ہی کیوں نہ ہو، کیونکہ مسائل عارضی ہیں جبکہ سیکھنا مستقل ہے، اور “کوانٹم نظریہ کی روح کو زندہ رکھیں۔”
انہوں نے OQI، NCP، NYU اور دیگر شریک اداروں کی مشترکہ کاوشوں کو بھی سراہا جنہوں نے تخلیقی پروگرامنگ، مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت اور بھرپور سیکھنے کے امتزاج پر مبنی ہیکاتھونز ترتیب دیے۔
تقریب کے دوران اوپن کوانٹم انسٹی ٹیوٹ (OQI)، سرن (CERN) کے مارٹن گسٹال نے کوانٹم تحقیق میں پاکستان کے بڑھتے ہوئے کردار کو سراہا۔ انہوں نے سرن کے غیر منافع بخش مشن، تنوع اور تعلیمی مواقع — بشمول طلبہ اور اساتذہ کے لیے انٹرن شپس — پر روشنی ڈالی۔
مارٹن گسٹال نے کہا کہ کوانٹم کمپیوٹنگ روایتی کمپیوٹنگ کی تکمیل کرتی ہے اور حقیقی دنیا کے مسائل حل کرنے میں مدد دے سکتی ہے، جس سے پائیدار ترقی کے اہداف کی حمایت ہوتی ہے۔ انہوں نے پاکستانی طلبہ اور محققین کو سرن کے ساتھ منسلک ہونے اور سائنسی جدت میں حصہ ڈالنے کی ترغیب بھی دی۔