راولپنڈی مسجد دھماکہ: روسی صدر پیوٹن کے تعزیتی خطوط، امریکہ، ایران، چین، آذربائیجان، یورپی یونین اور فرانس کی مذمت، کینیڈین وزیر اعظم کا اظہارِ ہمدردی
Home - آزاد سیاست - راولپنڈی مسجد دھماکہ: روسی صدر پیوٹن کے تعزیتی خطوط، امریکہ، ایران، چین، آذربائیجان، یورپی یونین اور فرانس کی مذمت، کینیڈین وزیر اعظم کا اظہارِ ہمدردی
راولپنڈی کی مسجد میں ہونے والے دھماکے پر دنیا بھر سے تعزیتی پیغامات موصول ہوئے ہیں اور واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا گیا ہے۔
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے صدرِ مملکت آصف علی زرداری اور وزیرِاعظم شہباز شریف کے نام الگ الگ تعزیتی خطوط ارسال کیے۔ پیوٹن نے کہا کہ راولپنڈی میں ہونے والے دہشت گرد حملے کے المناک نتائج پر وہ گہری تعزیت کا اظہار کرتے ہیں۔
روسی صدر نے اپنے پیغام میں کہا کہ ایک مذہبی تقریب کے دوران لوگوں کا قتل دہشت گردی کی وحشیانہ اور غیر انسانی فطرت کا ایک اور ثبوت ہے۔ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جدوجہد میں پاکستان کے ساتھ تعاون مزید مضبوط بنانے کے لیے روس کی آمادگی کا اعادہ بھی کیا۔
ولادیمیر پیوٹن نے جاں بحق افراد کے اہلِ خانہ اور عزیز و اقارب کے لیے دلی ہمدردی اور حمایت کا پیغام دیتے ہوئے زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔
ادھر امریکی سفارت خانہ نے بیان میں کہا کہ امریکہ آج راولپنڈی میں ہونے والے دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کرتا ہے جس کے نتیجے میں بے گناہ نمازی جاں بحق اور زخمی ہوئے۔ بیان میں کہا گیا کہ امریکہ ہر قسم کی دہشت گردی اور تشدد کی مذمت کرتا ہے۔
امریکی سفارت خانے کے مطابق نیٹلی بیکر نے کہا کہ حملے میں زخمی اور جاں بحق ہونے والوں کے اہلخانہ اور عزیز و اقارب سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا جاتا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ شہریوں اور عبادت گاہوں کے خلاف دہشت گردی ناقابل قبول ہے اور پاکستانی عوام خوف کے بغیر اپنے عقیدے پر عمل کرنے کے حقدار ہیں۔ امریکہ نے امن و سلامتی کے فروغ کے لیے پاکستان کی کوششوں کی حمایت جاری رکھنے اور استحکام کے لیے شراکت داری پر قائم رہنے کا بھی اعلان کیا۔
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بھی راولپنڈی کے ترلائی علاقے میں مسجد میں نماز جمعہ کے دوران ہونے والے دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کی۔ ایرانی بیان کے مطابق اس حملے کے نتیجے میں متعدد نمازی شہید اور زخمی ہوئے۔
اسماعیل بقائی نے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ساتھ پاکستان کی حکومت اور عوام سے بھی تعزیت کی اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ ایران دہشت گردی اور پرتشدد انتہاپسندی کی ہر شکل کی اصولی طور پر مذمت کرتا ہے اور دہشت گردی کی روک تھام اور اس کے خلاف مؤثر اقدامات کے لیے خطے کے تمام ممالک کے باہمی تعاون اور رابطہ کاری کو ضروری قرار دیا۔
چین کے سفارت خانے نے بھی بیان میں کہا کہ مسجد میں دھماکے سے ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں پر انہیں گہرا دکھ ہے۔ چینی سفارت خانے نے جاں بحق افراد کے لیے دلی تعزیت، اہلخانہ کے لیے ہمدردی اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی خواہش کا اظہار کیا۔
چینی بیان میں کہا گیا کہ اس مشکل وقت میں چین پاکستانی عوام کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے۔
آذربائیجان نے بھی حملے کو وحشیانہ دہشت گردی قرار دیتے ہوئے پاکستان کے ساتھ ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔
یورپی یونین نے اس واقعے کو ناقابل قبول دہشت گردی قرار دیتے ہوئے پاکستان کے ساتھ یکجہتی اور حمایت کا اعلان کیا۔
فرانس اور سعودی عرب نے بھی حملے کی شدید مذمت کی اور متاثرہ خاندانوں سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔
دوسری جانب کینیڈین وزیر اعظم مارک کارنی نے راولپنڈی دھماکے پر اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ راولپنڈی میں واقع مسجد میں ہونے والے بم دھماکے کی خبر سن کر دل دہل گیا، جس میں کم از کم 31 افراد جاں بحق اور 150 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔
کینیڈین وزیر اعظم کے مطابق کینیڈین عوام آج پاکستان کے لوگوں، متاثرین، زخمیوں اور ان کے عزیز و اقارب کے ساتھ اپنے خیالات اور ہمدردی کا اظہار کر رہے ہیں۔