پاکستان میں روزمرہ کی سواری اور خاندانی استعمال کے لیے اگر پندرہ لاکھ روپے کے بجٹ میں گاڑی خریدنا ہو تواس بجٹ میں ہائبرڈ یا جدید جاپانی چھ سو ساٹھ سی سی گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں تاہم اس بجٹ میں سب سے مناسب انتخاب سوزوکی مہران اور سوزوکی کلٹس ہیں۔
پندرہ لاکھ کے بجٹ میں دو ہزار سترہ تا دو ہزار اٹھارہ ماڈل کی اچھی حالت والی اپر ماڈل مہران خریدی جا سکتی ہے۔ اس کی مرمت کم خرچ ہے، مکینک اس گاڑی سے بخوبی واقف ہوتے ہیں اور دوبارہ فروخت کی قیمت بھی بہتر رہتی ہے۔ گاڑی میں بنیادی سہولیات موجود ہیں جن میں ایئر کنڈیشنر، ہیٹر، چار سے پانچ افراد کے بیٹھنے کی گنجائش اور قابل اعتماد سواری شامل ہے۔ تاہم پچھلے حصے میں لیف اسپرنگ سسپنشن استعمال ہونے کی وجہ سے سواری زیادہ آرام دہ نہیں رہتی، جبکہ شدید گرمی کے موسم میں ایئر کنڈیشنر کی کارکردگی بھی متاثر ہوتی ہے۔
سوزوکی کلٹس بھی اس بجٹ میں ایک مضبوط انتخاب ہے۔ پرانی کلٹس میں جی دس بی ایک ہزار سی سی چار سلنڈر الیکٹرانک فیول انجن دیا گیا ہے، جو پرانے تین سلنڈر کاربوریٹر انجن کی جگہ متعارف کرایا گیا تھا۔ شہری علاقوں میں ایئر کنڈیشنر کے ساتھ اس کی ایندھن کی بچت تقریباً تیرہ سے چودہ کلومیٹر فی لیٹر رہتی ہے۔ پندرہ لاکھ کے بجٹ میں دو ہزار بارہ تا دو ہزار چودہ ماڈل کی وی ایکس آر کلٹس دستیاب ہو سکتی ہے۔ اس کا کیبن مہران کے مقابلے میں زیادہ کشادہ ہے اور پچھلے حصے میں انڈیپنڈنٹ شاک کی وجہ سے سواری نسبتاً ہموار رہتی ہے۔ پلاسٹک کے اندرونی پینلز کی وجہ سے شور بھی کم ہوتا ہے اور ایئر کنڈیشنر کی کارکردگی مہران کے مقابلے میں بہتر ہے، اگرچہ شدید گرمی میں یہ بھی محدود ہو جاتا ہے۔
اس بجٹ میں کچھ ایسی گاڑیاں بھی شامل ہیں جو قابل اعتماد اور آرام دہ سواری فراہم کرتی ہیں، تاہم پرانے انجن ڈیزائن کے باعث ایندھن کی بچت ان کا مضبوط پہلو نہیں سمجھی جاتی۔ پانچویں نسل کی سوزوکی آلٹو ایک ہزار سی سی ایف دس اے کاربوریٹر انجن استعمال کرتی ہے، جو اصل میں چار ضرب چار جیپ کے لیے تیار کیا گیا تھا۔ شہری ڈرائیونگ میں ایئر کنڈیشنر کے ساتھ اس کی ایندھن کی کارکردگی دس سے بارہ کلومیٹر فی لیٹر رہتی ہے، جبکہ چھوٹے کیبن اور مضبوط انجن ٹارک کی وجہ سے ایئر کنڈیشنر گرمی میں بھی مؤثر رہتا ہے۔
کورے ایک اور متبادل ہے، جس میں آٹھ سو پچاس سی سی ای ڈی سیریز انجن دیا گیا ہے۔ خودکار ماڈل میں ایندھن کی بچت آٹھ سے دس کلومیٹر فی لیٹر جبکہ دستی ماڈل میں گیارہ سے تیرہ کلومیٹر فی لیٹر رہتی ہے، جس کا انحصار ڈرائیونگ انداز اور انجن کی حالت پر ہوتا ہے۔ کیورے زیادہ تر آرام دہ سواری کے لیے پسند کی جاتی ہے کیونکہ اس کا کیبن کشادہ اور سواری کا معیار بہتر ہے، تاہم مقامی مارکیٹ میں دو ہزار آٹھ تا دو ہزار نو ماڈل کی اچھی حالت والی گاڑی مہنگی بھی ہو سکتی ہے اور صاف مثال ملنا مشکل ہوتا ہے۔
مجموعی طور پر پندرہ لاکھ کے بجٹ میں سوزوکی کلٹس الیکٹرانک فیول بہترین انتخاب ہوسکتی ہے، کیونکہ یہ چار سلنڈر ہموار انجن، مناسب جگہ اور تیرہ سے چودہ کلومیٹر فی لیٹر ایندھن کی بچت فراہم کرتی ہے۔ سوزوکی مہران ایک محفوظ مالی انتخاب ہے جو کم خرچ مرمت اور قابل اعتماد سواری دیتی ہے، جبکہ اگر آرام اور ایئر کنڈیشنر کی کارکردگی کو ترجیح دی جائے تو ڈائیہاتسو کیورے اور سوزوکی آلٹو بہتر انتخاب ہیں، البتہ ان میں ایندھن کی لاگت نسبتاً زیادہ آتی ہے۔