پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات اب توانائی کے شعبے کو بھی اپنی لپیٹ میں لے چکے ہیں، جس کے باعث بجلی کی پیداواری لاگت میں اضافہ اور طلب و رسد کے فرق نے ملک بھر میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کو مزید شدید کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق فرنس آئل سے چلنے والے پاور پلانٹس کی لاگت بڑھنے سے بجلی کی مجموعی پیداوار مہنگی ہو گئی ہے، جس کا براہِ راست اثر فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ اور بجلی کے بلوں پر پڑ رہا ہے۔ اسی دباؤ کے باعث مختلف تقسیم کار کمپنیوں میں سپلائی مینجمنٹ متاثر ہوئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں بجلی کی طلب اور رسد کے درمیان فرق (شارٹ فال) ساڑھے 3 ہزار میگاواٹ سے تجاوز کر گیا ہے، جس کے باعث ملک کے مختلف علاقوں اسلام آباد، لاہور، پشاور، کراچی ،کوئٹہ سمیت دیگر شہروں میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ بڑھ گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:وزیر اعظم کی زیر صدارت اعلی سطح کا اجلاس،امریکا ایران مزاکرات سے متعلق اہم فیصلہ
نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی (این ٹی ڈی سی) کے حکام کے مطابق لیسکو سمیت متعدد ڈسکوز میں صورتحال اچھی نہیں ہے جہاں شارٹ فال 1 ہزار میگاواٹ سے بھی زیادہ رپورٹ کیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق کئی علاقوں میں صارفین کو صبح سے رات تک غیر معمولی لوڈشیڈنگ کا سامنا ہے۔
توانائی ماہرین کے مطاب فرنس آئل پر انحصار بڑھنے اور مہنگے ایندھن کے باعث بجلی کی پیداواری لاگت میں اضافہ ہوا ہے، جس نے پاور سیکٹر کے مالی دباؤ کو بڑھا دیا ہے۔ اس صورتحال میں حکومت پر بھی مالی دباؤ بڑھا ہے، جس کے باعث بجلی کی تقسیم اور لوڈ مینجمنٹ کے ذریعے طلب کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
اگر ایندھن کی قیمتوں اور سپلائی میں بہتری نہ آئی تو آئندہ دنوں میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ مزید بڑھ سکتا ہے، جس سے صنعتی اور گھریلو صارفین دونوں متاثر ہوں گے۔

