پاکستان تحریکِ انصاف کی جانب سے آج دی گئی شٹر ڈاؤن ہڑتال کی کال بلوچستان میں مکمل طور پر ناکام ثابت ہوئی۔ صوبے کے دارالحکومت کوئٹہ سمیت دیگر بڑے شہروں اور اضلاع میں معمولاتِ زندگی رواں دواں رہے، بازار کھلے، ٹرانسپورٹ معمول کے مطابق چلتی رہی
ہڑتال کے اعلان کے باوجود عوام نے پی ٹی آئی کی کال کو یکسر مسترد کر دیا، جس سے پارٹی کی عوامی سطح پر کمزور گرفت ایک بار پھر واضح ہو گئی۔
کوئٹہ کے مختلف علاقوںلیاقت بازار، جناح روڈ، سریاب روڈ اور عالمو چوک میں دکانیں کھلی رہیں اور خریداروں کی آمد و رفت معمول کے مطابق رہی۔
پبلک ٹرانسپورٹ، رکشے، بسیں اور ویگنیں بھی سڑکوں پر چلتی نظر آئیں ،کسی بڑے احتجاج، شٹر ڈاؤن یا سڑکوں کی بندش کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
شہریوں نے پی ٹی آئی کی احتجاجی سیاست پر شدید ناپسندیدگی کا اظہار کیا، مقامی تاجروں اور عام لوگوں کا کہنا تھا کہ تحریکِ انصاف کا کام اب صرف ہڑتالیں اور احتجاج رہ گیا ہے، جس سے عوام شدید ذہنی اور معاشی دباؤ کا شکار ہو چکے ہیں۔
شہریوں کا مزید کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں کو سڑکوں پر آنے کے بجائے پارلیمان اور آئینی فورمز کے ذریعے مسائل حل کرنے چاہئیں۔ احتجاج کی سیاست نے نہ صرف کاروبار کو نقصان پہنچایا ہے بلکہ عام آدمی کی زندگی کو بھی مشکل بنا دیا ہےعوام نے واضح پیغام دیا کہ وہ مزید سیاسی افراتفری کے متحمل نہیں ہو سکتے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق بلوچستان میں پی ٹی آئی کی شٹر ڈاؤن ہڑتال کی ناکامی اس بات کی عکاس ہے کہ پارٹی کی احتجاجی کالز اب اثر کھو چکی ہیں اور مقبولیت کا جھوٹا بیانیہ بھی زمین بوس ہوچکا ہے۔