پنجاب کے دل لاہور میں بہار کی آمد کا روایتی اور رنگا رنگ تہوار بسنت اپنے تیسرے اور آخری روز میں داخل ہو گیا ہے شہر بھر میں رنگ برنگی پتنگوں، موسیقی اور خوشی کے مناظر نے لاہور کو ایک بار پھر زندہ دلانِ لاہور کی پہچان بنا دیا۔
بسنت منانے کے لیے نہ صرف پنجاب بلکہ ملک کے دیگر حصوں اور بیرونِ ملک سے بھی بڑی تعداد میں لوگ لاہور پہنچے، جس سے شہر میں غیر معمولی رونق دیکھی گئی۔
آج بسنت کا تیسرا اور آخری دن ہے۔ اس موقع پر صبح کے وقت ڈی آئی جی لاہور کی جانب سے اعلان کیا گیا تھا کہ رات 12 بجے کے بعد پتنگ بازی پر پابندی عائد ہو جائے گی اور اس کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔
تاہم شہر بھر میں عوام کے جوش و خروش، پتنگ بازی کے شوق اور تہوار کی مقبولیت کو مدنظر رکھتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے ایک بڑا اور غیر متوقع اعلان کر دیا۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے بسنت کی تقریبات کا وقت بڑھاتے ہوئے بسنت کی اجازت پیر کی صبح 5 بجے تک دے دی ہے، اس فیصلے کے بعد شہری بلا خوف و خطر علی الصباح 5 بجے تک پتنگ بازی اور بسنت کی تقریبات جاری رکھ سکیں گے۔
وزیراعلیٰ کے اس اعلان کو لاہور کے عوام کے لیے ایک خصوصی انعام قرار دیا جا رہا ہے، جس پر شہریوں نے خوشی اور اطمینان کا اظہار کیا ہے۔اس موقع پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا تھا کہ بسنت لاہور کی ثقافت اور روایات کا اہم حصہ ہے اور عوام کی خوشی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
انہوں نے کہا کہ بسنت کی تقریبات میں توسیع لاہور کے عوام کے لیے تحفہ ہے، تاہم شہری اس تہوار کو محفوظ انداز میں منائیں وزیراعلیٰ نے خاص طور پر ہدایت کی کہ لوگ بجلی کے تاروں سے دور رہیں، دھاتی ڈور یا خطرناک سامان کے استعمال سے مکمل اجتناب کریں اور کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عمل سے گریز کریں۔
مریم نواز نے مزید کہا کہ شہری اپنی چھتوں کو محفوظ بنائیں، بچوں پر خصوصی نظر رکھیں اور انتظامیہ کی جانب سے جاری کی گئی تمام ہدایات پر مکمل عمل کریں۔۔