لاہور میں بسنت کے تین روزہ جشن بسنت کے دوران شہریوں کی آمدورفت کا نیا ریکارڈ قائم ہو گیا۔ ان تین دنوں میں شہر میں نو لاکھ گاڑیوں کی انٹری ریکارڈ کی گئی، جب کہ صرف دو روز کے دوران 14 لاکھ مسافروں نے سرکاری بسوں اور دیگر پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر سفر کیا۔
بسنت کے موقع پر اورنج لائن میٹروٹرین، میٹروبس، اسپیڈو فیڈر بسوں اور الیکٹروبس سروسز پر شہریوں کا غیر معمولی رش دیکھنے میں آیا۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیر نگرانی منعقدہ خصوصی ویڈیو لنک اجلاس میں سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے بسنت کے دو روزہ انتظامات اور کارکردگی پر مبنی رپورٹ پیش کی۔ اجلاس میں ہوم سیکرٹری، کمشنر لاہور، محکمہ صحت، پی ایچ اے، پولیس اور سیکیورٹی اداروں کے حکام نے بھی بریفنگ دی۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے بسنت کے دوران انتظامات اور سیکیورٹی اقدامات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے شہریوں کے تعاون کو قابلِ تحسین قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بسنت فیسٹیول کے اختتام کے بعد پتنگ بازی پر پابندی بدستور برقرار رہے گی اور آخری روز بھی ایس او پیز پر مکمل عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔
بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ دو روز میں اورنج لائن میٹروٹرین پر چھ لاکھ سے زائد مسافروں نے مفت سفر کیا۔ جمعہ کے روز دو لاکھ ننانوے ہزار جبکہ ہفتہ کو تین لاکھ پانچ ہزار مسافروں نے اورنج لائن پر سفر کیا۔ میٹروبس سروس پر دو دن میں مجموعی طور پر دو لاکھ اٹھہتر ہزار مسافروں نے مفت سفر کیا، جن میں جمعہ کو ایک لاکھ تینتالیس ہزار اور ہفتہ کو ایک لاکھ پینتیس ہزار مسافر شامل تھے۔
اسی طرح اسپیڈو فیڈر بسوں پر دو روز میں تین لاکھ ستاون ہزار شہریوں نے مفت سفر کیا، جبکہ الیکٹروبس فیڈر روٹس پر تیس ہزار مسافروں نے سہولت حاصل کی۔ ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی بسوں پر ساٹھ ہزار مسافروں نے سفر کیا، جب کہ گرین الیکٹرو بسوں پر باون ہزار شہریوں نے مفت سفر کیا۔
انتظامیہ کے مطابق لاہور میں مفت سفری سہولت کے لیے چار سو انیس بسیں آخری روز بھی دستیاب ہیں، اورنج لائن میٹروٹرین آج رات تک مفت سفر فراہم کرے گی، جبکہ میٹروبس، فیڈر بسیں اور گرین بسیں بھی آج مفت سفر کی سہولت دیں گی۔ اس کے علاوہ چھ ہزار آن لائن سروس رکشوں پر بھی آج حکومت کی جانب سے مفت سفر جاری ہے۔ بسنت کے آخری روز شہر میں حفاظتی اقدامات پر سختی سے عملدرآمد کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔