ٹی20 کرکٹ ورلڈ کپ کے دوران یو اے ای کرکٹ ٹیم کو اس وقت ایک سنگین تنازع کا سامنا کرنا پڑگیا جب پاکستانی نژاد اماراتی اوپنر محمد زوہیب کو ٹیم منیجمنٹ نے بھارتی شہر چنئی سے دبئی واپس بھجوا دیا۔
اس غیر متوقع فیصلے نے نہ صرف یو اے ای کیمپ میں ہلچل مچا دی بلکہ سوشل میڈیا پر بھی معاملہ تیزی سے وائرل ہوگیا۔
اماراتی کرکٹ بورڈ ‘ای سی بی’ کی جانب سے جاری کردہ مختصر بیان میں کہا گیا ہے کہ محمد زوہیب کو ‘نظم و ضبط کی خلاف ورزیوں’ کی بنیاد پر ٹیم سے واپس بھیجا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پی سی بی کا پی ایس ایل کے میچز سے متعلق بڑا فیصلہ
بورڈ نے تاہم اس معاملے کی مزید تفصیلات فراہم کرنے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ ‘مناسب وقت پر مکمل تفصیلات جاری کی جائیں گی’ اور فی الحال مزید کوئی تبصرہ نہیں کیا جائے گا۔
دوسری جانب محمد زوہیب نے اس اقدام کو امتیازی سلوک قرار دیتے ہوئے سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ سوشل میڈیا پر جاری متعدد ویڈیوز میں زوہیب نے دعویٰ کیا کہ یو اے ای ٹیم کی مکمل منیجمنٹ کا تعلق بھارت سے ہے اور انہیں صرف ’پاکستانی نژاد ہونے‘ کی بنیاد پر نشانہ بنایا گیا۔
محمد زوہیب کے مطابق گزشتہ 3 سے 4 دنوں کے دوران کوچ اور دیگر ٹیم آفیشلز نے انہیں بار بار بلا کر کہا کہ وہ خود کو ’ان فٹ ڈیکلیئر‘ کر دیں تاکہ انہیں دبئی واپس بھیجا جا سکے۔ زوہیب کا کہنا تھا کہ انکار پر انہیں دھمکیاں دی گئیں اور کہا گیا کہ ’اگر تعاون نہ کیا تو مستقبل میں آپ کے لیے مسائل کھڑے کیے جائیں گے، جیسا کہ عمان کے کرکٹرز کے ساتھ ہوا‘۔
زوہیب نے مزید انکشاف کیا کہ بعد ازاں ان پر دباؤ ڈالا گیا کہ وہ اپنی والدہ کی صحت کا بہانہ بنا کر وطن واپس جائیں۔ جب انہوں نے اس فیصلے کی وجہ جاننے کی کوشش کی تو کوئی واضح جواب نہیں دیا گیا اور انہیں زبردستی ٹیم سے نکال دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’یہ لوگ اپنے من پسند کھلاڑی ٹیم میں شامل کرنا چاہتے ہیں‘۔
متنازع صورتحال اس وقت مزید شدت اختیار کرگئی جب محمد زوہیب نے پریکٹس سیشن کے دوران گراؤنڈ سے ویڈیو بنائی جس میں وہ بتاتے نظر آئے کہ انہیں اچانک گراؤنڈ چھوڑنے کا حکم دیا گیا اور کہا گیا کہ ‘آپ کی فلائٹ ہے، واپس دبئی جائیں’۔ بعد ازاں ہوٹل پہنچنے پر بھی انہیں دباؤ میں رکھا گیا۔
زوہیب کے مطابق ٹیم انتظامیہ نے دھمکی دی کہ اگر وہ واپس نہ گئے تو ان کی ہوٹل بکنگ کینسل کر دی جائے گی اور انہیں اپنے خرچے پر رہنا ہوگا۔ ویڈیو میں زوہیب کا کہنا تھا کہ ’یہ بھارت ہے، یہاں آپ کے ساتھ کچھ بھی ہوسکتا ہے‘۔
بھارتی ایئرپورٹ سے ریکارڈ کی گئی ایک اور ویڈیو میں محمد زوہیب نے اماراتی کرکٹ بورڈ اور انٹرنیشنل کرکٹ کونسل ’آئی سی سی‘ سے اپیل کی کہ ان کے ساتھ ہونے والی زیادتی کی غیر جانبدار تحقیقات کی جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے کوئی غیر قانونی یا غیر اخلاقی عمل نہیں کیا اور انہیں بغیر کسی وجہ کے ٹیم سے نکال دیا گیا۔
زوہیب نے زور دے کر کہا کہ ’ہم یہاں یو اے ای کی نمائندگی کر رہے ہیں، پاکستانی یا بھارتی ہونے کا معاملہ نہیں ہونا چاہیے‘۔ انہوں نے یہ بھی اعتراف کیا کہ اس طرح ویڈیو بنا کر آواز اٹھانا ان کے کیریئر کے لیے نقصان دہ ہوسکتا ہے، لیکن وہ خاموش نہیں رہیں گے۔
یہ واقعہ اس وقت سامنے آیا ہے جب یو اے ای کی ٹیم بھارت میں ٹی20 ورلڈ کپ کے میچز کھیلنے میں مصروف ہے اور اس تنازع نے ایونٹ کے دوران ٹیم کی ساکھ پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں۔