پاک بھارت میچ، پاکستان کی اہم شرط، آئی سی سی، بنگلہ دیش حکام اور محسن نقوی کی ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی

پاک بھارت میچ، پاکستان کی اہم شرط، آئی سی سی، بنگلہ دیش حکام اور محسن نقوی کی ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی

پاکستان کرکٹ بورڈ، انٹرنیشنل کرکٹ کونسل اور بنگلادیش کرکٹ بورڈ کے درمیان ہونے والی اہم ملاقات کی اندرونی کہانی منظرعام پر آ گئی ہے، جس میں خطے کی کرکٹ سیاست، مالی معاملات اور مستقبل کے ایونٹس سے متعلق کئی اہم نکات زیرِ بحث آئے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق اجلاس کے دوران ایک اہم نکتہ یہ اٹھایا گیا کہ اگر بنگلادیش کرکٹ بورڈ کو راضی کر لیا جائے تو پاکستان کرکٹ بورڈ بھی بعض معاملات پر رضامندی ظاہر کر سکتا ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق پی سی بی نے آئی سی سی سے مطالبہ کیا ہے کہ بنگلادیش کرکٹ بورڈ کو آئی سی سی ریونیو میں مناسب شیئر دیا جانا چاہیے، تاکہ خطے میں کرکٹ کے توازن اور مالی استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔ پی سی بی حکام کا مؤقف تھا کہ بنگلادیش کرکٹ ایشیا میں ایک اہم فریق ہے اور اس کے مالی حقوق کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستانی ٹیم کو یہ کام کرنا ہوگا، رکی پونٹنگ اور روی شاستری کا بابراعظم سے متعلق اہم مشورہ

ملاقات میں یہ مطالبہ بھی سامنے آیا کہ آئی سی سی اس بات کی ضمانت دے کہ بھارت ستمبر میں بنگلادیش کا دورہ کرے گا، کیونکہ یہ سیریز بنگلادیش کرکٹ کے لیے نہایت اہم ہے۔ اسی کے ساتھ پی سی بی اور بھارتی کرکٹ بورڈ کے درمیان ہائبرڈ ماڈل کو 2031 کے ورلڈ کپ تک توسیع دینے کی تجویز پر بھی بات چیت کی گئی، جسے خطے میں کرکٹ کے تسلسل کے لیے ضروری قرار دیا گیا۔

دوسری جانب ٹی 20 ورلڈ کپ میں 15 فروری کو پاکستان اور بھارت کے درمیان متوقع ٹاکرے پر بھی غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ ذرائع کے مطابق اس حوالے سے حتمی فیصلہ وزیراعظم شہباز شریف اور چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ محسن نقوی کے درمیان ہونے والی ملاقات میں کیا جائے گا۔

چیئرمین پی سی بی محسن نقوی وزیراعظم کو آئی سی سی اور بنگلادیش کرکٹ بورڈ کے ساتھ ہونے والی ملاقات کی تفصیلات سے آگاہ کریں گے اور انہیں اعتماد میں لیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ محسن نقوی انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی جانب سے کی گئی درخواستوں اور ممکنہ دباؤ سے متعلق بھی وزیراعظم کو بریفنگ دیں گے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے میچ سے متعلق فیصلہ نہ صرف کرکٹ بلکہ سفارتی اور سیکیورٹی پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے گا، جس کے اثرات عالمی کرکٹ شیڈول اور ورلڈ کپ کی مقبولیت پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *