آکسفورڈ (سفینہ خان ) : برطانیہ کی ممتاز درسگاہ آکسفورڈ یونیورسٹی کے تاریخی ہال میں آج ایک ایسی آواز گونجی جو تعلیمی دیواروں سے نکل کر عالمی ضمیر تک جا پہنچی۔
نوبیل امن انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی نے عالمی برادری کو واضح پیغام دیا ہے کہ طالبان جیسے طرزِ حکمرانی کے ساتھ معمول کے تعلقات استوار کرنا ناانصافی کو قبول کرنے کے مترادف ہے، ان کا کہنا تھا کہ جب ایک نظام آدھی آبادی کو تعلیم، روزگار اور بنیادی حقوق سے محروم کر دے تو خاموشی جرم بن جاتی ہے۔
لیڈی مارگریٹ ہال میں اپنی تصویر کی نقاب کشائی کے موقع پر آزاد نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے ملالہ کا لہجہ نرم مگر مؤقف دوٹوک تھا ، انہوں نے کہا کوئی بھی ریاست یہ تاثر نہ دے کہ سب کچھ معمول پر ہے جبکہ افغانستان کی بیٹیاں کلاس رومز اور سماجی زندگی سے باہر دھکیلی جا رہی ہیں، ان کے مطابق ظلم کے سامنے خاموش رہنا دراصل ظلم کو مزید مضبوط کرنا ہے۔
ملالہ کی تصویر معروف برطانوی مصورہ Isabella Watling نے تخلیق کی، جسے Oxford Pakistan Programme کے اشتراک سے کمیشن کیا گیا اور کراچی سے تعلق رکھنے والے مخیر شخصیت حمید اسماعیل نے معاونت فراہم کی تقریب میں تقریباً 200 مہمان شریک ہوئے۔
جن میں ممتاز ماہرینِ تعلیم، آکسفورڈ کے سابق طلبہ اور ملالہ کے والد ضیاءالدین یوسفزئی، والدہ طور پیکئی یوسفزئی، بھائی خوشحال خان یوسفزئی اور ان کے شوہر اسیر ملک شامل تھے۔
یہ لمحہ پاکستان کے لیے بھی علامتی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ ملالہ سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کے بعد دوسری پاکستانی خاتون ہیں جن کی تصویر آکسفورڈ میں آویزاں کی گئی ہے۔
ملالہ کے لیے یہ اعزاز صرف ایک تقریب نہیں بلکہ ایک جذباتی حوالہ بھی ہے انہوں نے بے نظیر بھٹو کو اپنی تحریک اور حوصلے کا سرچشمہ قرار دیتے کہا کہ بے نظیر صرف پاکستان کی نہیں بلکہ پوری مسلم دنیا کی خواتین کے لیے امید کی علامت تھیں اور اسی کالج میں اپنی تصویر لگنا ان کے لیے باعثِ فخر بھی ہے اور ذمہ داری بھی۔
ملالہ نے زور دیا کہ عالمی سفارتکاری کی بنیاد انسانی حقوق ہونی چاہیے، خاص طور پر مسلم ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ان پابندیوں کے خلاف آواز بلند کریں جو اسلام کے نام پر مسلط کی جا رہی ہیں ، انہوں نے یاد دلایا کہ تعلیم اسلام میں فرض ہے، انتخاب نہیں ، کسی بھی بچی کو علم سے محروم کرنا نہ صرف بنیادی انسانی حقوق بلکہ دینی اصولوں کی بھی نفی ہے۔
آکسفورڈ کی جانب سے ملنے والے اعزاز پر شکریہ ادا کرتے ہوئے ملالہ نے کہا کہ وہ چاہتی ہیں یہ تصویر صرف دیوار کی زینت نہ بنے بلکہ ہر اس لڑکی کے لیے امید کا پیغام ہو جو سوات، کابل یا کسی دور افتادہ گاؤں سے تعلق رکھتی ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ ” میں چاہتی ہوں ہر بچی جان لے کہ وہ بھی ان ایوانوں میں جگہ رکھتی ہے ہماری آواز اہم ہے ہمارے خواب اہم ہیں، اور ہمارا مستقبل کسی سودے بازی کا حصہ نہیں بن سکتاـ “
روایات سے مزین اس تاریخی ہال میں سوات کی ایک بیٹی کی تصویر اب ایک خاموش مگر مضبوط اعلان ہے ، طاقت تاریخ کو موڑ سکتی ہے مگر تاریخ کو زندہ رکھنے کا ہنر صرف حوصلہ رکھتا ہے ۔